احمد آباد، 18 جولائی(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا) سابق کانگریس لیڈر الپیش ٹھاکر اوردھول سنگھ جھالا جمعرات کو آخر کار بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) میں شمولیت اختیارکی۔بتا دیں کہ کانگریس نے لوک سبھا انتخابات میں پارٹی مخالف سرگرمیوں میں ملوث رہنے کی وجہ سے الپیش کو نااہل ٹھہرائے جانے کی مانگ کی تھی۔اس کے بعد سے ہی یہ بحث چل رہی تھی کہ الپیش جلد بی جے پی جوائن کر سکتے ہیں۔اس سے پہلے کانگریس کے سابق ممبر اسمبلی الپیش اور دھول سنگھ نے گجرات راجیہ سبھا کے ضمنی انتخابات میں کراس ووٹنگ کرتے ہوئے بی جے پی کے حق میں ووٹ دے دیا تھا۔کراس ووٹنگ کے بعد دونوں نے رکنیت سے استعفی دے دیا تھا،ووٹنگ کے بعد اسمبلی سے استعفیٰ دے کر الپیش ٹھاکر نے کہا تھاکہ میں نے اپنا ووٹ ایماندار قومی قیادت کو دیا ہے، جو ملک کو ایک نئے مقام پر لے جانا چاہتی ہے،میں نے اپنی ضمیر کے مطابق ووٹ دیا ہے۔ او بی سی لیڈر نے کہا تھاکہ کانگریس میں مجھے ذہنی دباؤ کے علاوہ کچھ نہیں ملا،میں اب اس بوجھ سے آزاد ہوں۔بتا دیں کہ ملک کے وزیر داخلہ امت شاہ اور مرکزی وزیر اسمرتی ایرانی کے لوک سبھا الیکشن جیتنے کی وجہ سے گجرات کی دو راجیہ سبھا سیٹیں خالی ہوئی تھیں۔بی جے پی امیدوار وزیر خارجہ ایس جے شنکر اور جگل جی ٹھاکر نے جیت درج کی۔اس الیکشن کے دوران کانگریس کے باغی اراکین اسمبلی الپیش ٹھاکور اور جھالا نے کراس ووٹنگ کی تھی۔مانا جا رہا ہے کہ بی جے پی میں شامل ہونے کے بعد الپیش ٹھاکر کو گجرات حکومت میں وزیر کا عہدہ مل سکتاہے،اگرچہ ابھی اس بارے میں سرکاری طور پر کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔جمعرات کو گجرات بی جے پی صدر جیتو وگھانی کی موجودگی میں دونوں لیڈرپارٹی میں شامل ہوئے۔