پٹنہ،8؍ستمبر(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) جھارکھنڈ قانون ساز اسمبلی میں نمازکی ادائیگی کے لیے الگ کمرے دینے پرچند عناصرنے ہنگامہ مچارکھاہے اوراس بہانے اب کئی ریاستوں میںتنازعہ شروع کردیاگیاہے ۔بی جے پی کویہ کسی طورپرہضم نہیں ہورہاہے ۔اب اتر پردیش اور بہار تک اس مسئلے پر بحث شروع ہوچکی ہے اور یہاں تک کہ اس طرح کے نظام کا مطالبہ قانون ساز اسمبلی میں بھی کیا جارہا ہے۔
اترپردیش کے کانپور کے ایم ایل اے سولنکی نے مطالبہ کیا ہے کہ یوپی کی اسمبلی میں بھی اسی طرح کا انتظام کیا جائے۔ ایس پی ایم ایل اے نے کہاہے کہ سیشن کے دوران پوجاپڑھنے میں مسئلہ ہے ، لہٰذاضرورت کوذہن میں رکھتے ہوئے ، یہ صحیح فیصلہ ہوگا۔یوپی کے علاوہ بہار میں بھی اس مسئلہ پر بحث جاری ہے۔
بھارتیہ جنتا پارٹی کے ایم ایل اے ہری بھوشن ٹھاکر نے مطالبہ کیا ہے کہ ہنومان چالیساپڑھنے کے لیے بہار قانون ساز اسمبلی میں ایک الگ کمرہ بنایا جائے اور منگل کو بھی چھٹی کا اعلان کیا جائے۔بی جے پی ایم ایل اے نے کہا ہے کہ آئین سب کو یکساں حقوق دیتا ہے ، اگر نماز کی گنجائش ہے تو ہنومان چالیساکے لیے کیوں نہیں۔ ہری بھوشن ٹھاکر کا کہنا ہے کہ وہ اس مسئلہ پر اسپیکر سے بات کریں گے ، سب کوپوجا کا یکساں حق حاصل ہے۔