پٹنہ14فروری(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)پاکستانی دہشت گردوں سے لڑتے ہوئے جوان بھلے ہی شہید ہو گیا، لیکن اس کی آبائی ریاست میں’’ دیش بھکت‘‘ بی جے پی کے ساتھ سرکارچلانے والی نتیش حکومت اس کوشہادت پر وہ وقار نہیں دے پائی جس کا وہ حق دار تھا۔بدھ کے بھوج پور ضلع کے اپنے آبادی گاؤں پیرو میں مجاہدکوفوجی اعزاز کے ساتھ وہ دفن کیا گیا تھا۔تمام ذاتوں اور مذاہب کے ہزاروں افرادموجودتھے لیکن بہار کی حکومت کاکوئی نمائندہ اور نہ مقامی ممبراسمبلی راج کمار سنگھ تک پہنچ سکے۔ایک طرف فوجی سربراہ تواویسی کے بیان پرکہتے ہیں کہ فوج میں مذہب نہیں دیکھاجاتاہے لیکن بی جے پی کی ہی سرکارمیں دولوگوں کوالگ الگ رقم دی جاتی ہے ساتھ ہی سرکارکاکوئی نمائندہ تک نہیں آتاہے۔ملک بھرمیں حب الوطنی کاسرٹیفیکٹ بانٹنے والی بی جے پی کی نتیش کمارکے ساتھ مشترکہ سرکارہے۔ایسے میں اس پرسوال اٹھنافطری ہے۔خاندان والوں کو سب سے زیادہ اس بات کا افسوس ہے کہ مقامی ضلع افسر ایک پانچ لاکھ کا چیک لے کر پہنچے جبکہ ایک دن پہلے بہار کے کھگڑیا ضلع کے مقتول فوجی کے خاندان والوں کو گیارہ لاکھ کا چیک دیا تھا۔ریاستی حکومت کا کہنا ہے کہ فی الحال شہید فوجی کے خاندان والوں کو 11لاکھ اور نیم فوجی دستوں کے جوان کو پانچ لاکھ دینے کا قانون ہے۔تاہم ضلع آفیسر نے خاندان کے ارکان کو یقین دہانی کرائی ہے کہ ریاستی حکومت اپنے منصوبے پرغورکر رہی ہے۔لیکن سوال یہ ہے کہ، جب نیتش حکومت شہیدوں کے خاندانوں کے ساتھ دوہرارویہ کیوں اپنایا۔ان کے گاؤں کے علاوہ، قریبی گاؤں سے ہزاروں افراد نے شہید مجاہد کی نماز پڑھی۔لوگوں نے اپنی دکانوں کو بند کر دیا اور شامل ہو گئے۔ لوگ ’’پاکستان مردآ اباد‘‘کے نعرے بھی لگائے۔