ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / دہلی فساد کی حقیقت کو منظرعام پرلانےکیلئےسابق ججوں اور نوکرشاہوں کی کمیٹی تشکیل

دہلی فساد کی حقیقت کو منظرعام پرلانےکیلئےسابق ججوں اور نوکرشاہوں کی کمیٹی تشکیل

Tue, 13 Oct 2020 21:34:30    S.O. News Service

نئی دہلی،13؍اکتوبر (ایس او نیوز؍ایجنسی) دہلی فسادات کی جانچ پراٹھنے والے سوالات اور شہریت ترمیمی ایکٹ کے کارکنوں کوفساد میں ماخوذ کرنے کے الزامات کے بیچ سابق ممتاز ججوں اور نوکر شاہوں  کی ایک ٹیم نے فسادات کی جانچ کرکےحقیقت کو منظر عام پر لانے کا فیصلہ کیا ہے۔مرکزی اور ریاستی حکومتوں کیلئے کام کرچکے سابق نوکر شاہوں کی تنظیم ’کانسٹی ٹیوشنل کنڈکٹ گروپ‘( سی سی جی) نے اس تعلق سے  ۶؍ ممتاز سابق   اعلیٰ عہدیداروں کی ایک کمیٹی تشکیل دی ہے۔ کمیٹی فروری میں ہونے والے ان  فسادات کی جانچ کرکے ریکارڈ تیار کریگی۔’سٹیزنس کمیٹی  آن دہلی رائٹس آف فروری 2020:پس منظر، واقعات اور مابعد‘‘ کے عنوان سے بنائی گئی یہ کمیٹی  سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس مدن لوکر، مدراس اور دہلی ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس نیز لاء کمیشن کے  سابق  چیئر مین جسٹس اے پی شاہ، دہلی ہائی کورٹ کے سابق جج آر ا یس سوڈھی، پٹنہ ہائی کورٹ کی سابق جج جسٹس انجناپرکاش، سابق مرکزی داخلہ سیکریٹری جی کے پلّئی اوربیوروآف پولیس ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ  کے سابق ڈائریکٹر میران چڈھا بوروانکر پر مشتمل ہے۔

سی سی جی کاکہنا ہےکہ یہ ایک غیر سیاسی گروپ ہے اورایک ایسی معاشرتی تہذیب کو فروغ دینے کیلئے کام کررہا ہےجو آئینی قدروں کے دھاگوںسے مضبوط  بندھی  ہو۔سی سی جی کے مطابق فروری 2020ء میں شمال مشرقی دہلی میں پھوٹ پڑنے والے فسادات کی بھیانک نوعیت ، ان میںہونے والی تباہی ، جان ومال کانقصان اور ان کے نتیجے میںدوفرقوںکے درمیان پیدا ہونے والی خلیج وہ عوامل ہیںجو تقاضا کرتے ہیںکہ فسادات کی جانچ کیلئے ماہرین پر مشتمل ایک کمیٹی قائم کی جائے جوفسادات  کے اسباب ، محرکات اورنتائج کا غیر جانبدارانہ جائزہ لے ۔گروپ کاکہنا ہےکہ فسادات کی پولیس کے ذریعے کی گئی تحقیقات تنقید وںکی زد پر ہے جس کے بعدنئے سرے سے تحقیقات کی از سر نوضرورت  ہے۔ کمیٹی کو اس بات کی اجازت دی جائے گی کہ تحقیقات کیلئے  وہ اپنے ضابطے متعین کرےگی  اور کام شروع کرنے کے بعد۱۲؍ دنوں کے اندر  رپورٹ پیش کرے گی۔

سی سی جی نے بتایاکہ گروپ میں شامل سابق نوکر شاہ   ان واقعا ت کا جائزہ لیں گے جوفسادات  سے پہلے اورفسادات کے درمیان  پیش آئے ۔  پھر یہ بھی دیکھاجائےگا کہ ریاستی مشینری نے فسادات پر قابو پانے ، نظم ونسق بحال کرنے ا ور اس سے متعلقہ دیگر امورکو انجام دینےکیلئے کیاکیا اقدامات کئے۔


Share: