نئی دہلی 31/مارچ (ایس او نیوز/ایجنسی)جنوب مشرقی دہلی کے نظام الدین میں واقع تبلیغی جماعت کے مرکز میں رہنے والے 24 لوگوں کی رپورٹ کورونا پوزیٹو آنے کی اطلاع ملی ہے۔ میڈیا میں آئی خبروں کے مطابق مرکز میں 15 سے 17 مارچ کے دوران تبلیغی اجتماع منعقد ہوا تھا جس میں سینکڑوں لوگ شریک ہوئے تھے۔ بتایا گیا ہے کہ اجتماع میں شریک کئی لوگوں میں کورونا وائرس پھیلنے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔
اطلاع کے مطابق 334 لوگوں کو اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے جبکہ سات سو لوگوں کو کورنٹائن کیا گیا ہے۔ میڈیا میں آئی بعض خبروں میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ تبلیغی مرکز سے منسلک چھ افراد تلنگانہ میں اور ایک ایک تمل ناڈو جموں و کشمیر اور دہلی میں جاں بحق ہوگئے ہیں۔
میڈیا میں آئی خبروں میں دہلی کے وزیر صحت ستیندر جین کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ انہوں نے بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ تبلیغی جماعت نے لاک ڈاون کے دوران قوانین کو توڑ کر جرم کیا ہے۔ انہوں نے لیفٹیننٹ گورنر سے مرکز کے سربراہ کے خلاف کارروائی کا بھی مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مرکز کے 24 افراد کورونا وائرس سے متاثر پائے گئے جبکہ اس بیماری کی علامات والے 334 لوگوں کو الگ الگ اسپتالوں میں داخل کرایا گیا ہے۔ انکی باتوں پر یقین کریں تو تقریبا 1500 سے 1700 لوگ مرکز میں آئے تھے جبکہ 1033 لوگوں کو یہاں سے نکالا گیا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہاکہ پولیس مرکز سے جڑے معاملے کی تحقیقات کر رہی ہے اور تحقیقات کے بعد کارروائی کی جائے گی۔
مرکز کمیٹی سے منسلک مولانا یوسف کے حوالے سے میڈیا میں لکھا گیا ہے کہ 25 مارچ کو انتظامیہ کو خط لکھ کر بتایا گیا تھا کہ یہاں سے 1500 لوگوں کو بھیجا جا چکا ہے لیکن لاک ڈاون کی وجہ سے تقریبا 1000 لوگ اب بھی پھنسے ہوئے ہیں جنہیں نکالنے کے لئے گاڑی پاس جاری کئے جائیں ۔ گاڑی پاس کے لئے گاڑیوں کی فہرست بھی لگائی گئی تھی مگر انتظامیہ نے گاڑی پاس جاری نہیں کئے۔ انہوں نے کہا کہ اب یہ غلط الزام لگایا جا رہا ہے کہ مرکز کمیٹی نے حکومت کے احکامات پر عمل نہیں کیا۔
واضح رہے کہ نظام الدین کا تبلیغی جماعت کامرکز عالمی شہرت یافتہ مرکز ہے اس لئے پورے سال ملک سمیت دنیا کے مختلف ممالک سے لوگ یہاں آتے رہتے ہیں۔ ان کا اہم کام لوگوں کو اسلام کی تعلیم کی صحیح معلومات اور اس کے حساب سے زندگی گزارنے کی ترغیب دینا ہے۔ تبلیغی جماعت میں شامل افراد مختلف گروپوں کے ساتھ ملک کے مختلف حصوں یا بیرون ملک جاتے ہیں، یہاں سے تبلیغ پر جانے والے لوگ جس علاقے میں بھی جاتے ہیں وہاں کی مساجد میں ٹھہر کر محلہ کے لوگوں کو نماز میں شامل ہونے کی ترغیب دیتے ہیں۔