ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / دیش بدل گیا ہے، اب نہیں چلے گی نعروں کی سیاست: ارون جیٹلی

دیش بدل گیا ہے، اب نہیں چلے گی نعروں کی سیاست: ارون جیٹلی

Tue, 27 Nov 2018 20:35:34    S.O. News Service

جے پور ،27؍ نومبر (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) حکومت بنتے ہی دس دن میں کسانوں کا قرض معاف کرنے کی کانگریس صدر راہل گاندھی کے اعلان پر طنز کرتے ہوئے مرکزی وزیر خزانہ ارون جیٹلی نے کہاہے کہ کانگریس جانتی ہے کہ وہ اقتدار میں نہیں آ رہی ہے اسی لیے ایسے نعرے دے رہی ہے۔اس کے ساتھ ہی انہوں نے کہاہے کہ 1971 سے لے کر اب تک ملک بہت بدل گیا ہے اور اب نعروں کی سیاست نہیں ہوگی۔ملک میں جو اقتصادی ترقی ہے جب اس کی ترقی زیادہ بڑھتی ہے تو فطری ہے وہ صرف ایک اعداد و شمار نہیں ہوتا، وہ ہر شہر میں، ہر گاؤں میں اس کے نشان ظاہر ہوتے ہیں اور اس سے ترقی جب بڑھتی ہے تو حکومت کے پاس آمدنی بھی زیادہ آتی ہے۔ارون جیٹلی نے کہاہے کہ بے روزگاری کو وہ لوگ مسئلہ بنا رہے ہیں جو گزشتہ 70 سال میں سے 50 سال حکومت میں رہے۔جنہوں نے مسئلہ پیدا کیا وہی اسے آج مسئلہ بنا رہے ہیں۔کانگریس صدر راہل گاندھی نے پیر کو ریاست میں انتخابی جلسوں میں کہا تھا کہ پارٹی کی حکومت بنتے ہی دس دن میں کسانوں کا قرض معاف کر دیا جائے گا۔اس پر جیٹلی نے کہاکہ جہاں تک تمام قرض معاف کرنے کا ان کا وعدہ ہے تو انہیں معلوم ہے کہ اقتدار میں انہیں آنا نہیں۔جن لوگوں کو ان کی سمجھ نہیں ہوتی انہیں کئی بار سستی مقبولیت چاہئے ہوتی ہے۔انتظامیہ اور ملک کیسے چلتا ہے ٹھوس بنیاد پر اس کا تصور انہیں نہیں ہوتا۔ جیٹلی نے کہاکہ کانگریس نے یہ وعدہ کرناٹک اور پنجاب میں بھی کیا تھا۔پنجاب میں جب لگا کہ حکومت پہلے ہی غریب ہو چکی ہے، دینے کی پوزیشن میں نہیں ہے تو ایک رسمی قسم منصوبہ لے آئی۔منصوبہ لائے جانے کے بعد صورت حال یہ ہوئی کہ گزشتہ سال پوری ریاست میں ترقی کے لئے خرچ کئے گئے صرف 2500 کروڑ روپے رہ گئے۔ لہٰذا ملک چلانے کے لئے آپ کو ایک ویژن چاہئے صرف نعرے نہیں ۔۔نوٹ بندی کو سب سے بڑا گھوٹالہ اور جی ایس ٹی کو گبر سنگھ ٹیکس بتائے جانے پر جیٹلی نے کہاکہ کانگریس کے زمانے میں زیادہ تر اشیاء پر VAT اور ایکسائز طور 12.5 فیصد اور 14.5 فیصد یعنی 27 فیصد، اس میں سی ایس ٹی شامل کرلو تو 29 فیصد اور اس پر ٹیکس لگتا تھا اور مجموعی طور 31 فیصد ہوتا ہے۔اس کے برعکس ہم 334 اشیاء استعمال کو پہلے سال میں ہی ہم 18 اور 12 فیصد کی شرح میں لے آئے یہ جی ایس ٹی کی کامیابی ہے۔ نوٹ بندی پر انہوں نے کہاکہ مئی 2014 میں جب ہماری حکومت آئی تو ملک میں ٹیکس ریٹرن صرف 3.8 کروڑ لوگ بھرتے تھے۔چوتھے سال کے بعد 6.86 کروڑ ہو گئی اور پانچویں سال کے بعد مجھے پوری امید ہے کہ یہ ساڑھے سات یا 7.6 کروڑ ہو جائے گی یعنی جب سے انکم ٹیکس قانون بنا ہے جتنے لوگ دائرے میں آئے یہ تعداد صرف پانچ سال میں ہی دگنی ہو گئی۔انہوں نے کہاکہ لیکن اب ایک مزاج ہو گیا ہے کہ حقیقت اور اعداد و شمار میں نہ جاکر صرف ایک نعرہ دے دو۔نعروں کی سیاست 1971 میں ہوئی تھی جب ’غریبی ہٹاؤ‘ کا نعرہ آیا۔آج بھی آپ کہتے غربت نہیں ہٹی۔2018 اور 1971 کے درمیان میں یہ ملک بہت بدلا ہے اور اب نعروں کی سیاست نہیں چلے گی ۔لاکھوں لوگوں کو لیڈروں سے بڑی توقع ہوتی ہے لہٰذا سوال بہت سخت پوچھتے ہیں۔


Share: