رانچی، 8؍ستمبر (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) بہار کی سیاست کے بعد جھارکھنڈ کی سیاست بھی اسی سمت میں آگے بڑھ رہی ہے۔ موصولہ اطلاع کے مطابق بہار کے بعد اب جھارکھنڈ کے بھی آل پارٹی نمائندگان پی ایم نریندر مودی سے مل سکتے ہیں۔ اس کے لیے پی ایم مودی سے 12 اور 20 ستمبر کے درمیان ملاقات کا وقت مانگا گیا ہے۔ اس کا اعلان وزیراعلیٰ ہیمنت سورین نے جھارکھنڈ اسمبلی کے مانسون اجلاس کے چوتھے دن کیا۔ اس موقع پر وزیراعلیٰ نے کہا کہ ہماری حکومت نے ذات پر مبنی مردم شماری اور پسماندہ افراد کے ریزرویشن کے حوالے سے مثبت اقدامات کئے ہیں،جب کہ اس ریاستی وفد میں 9 ارکان شامل ہوں گے۔
وزیراعلیٰ ہیمنت سورین نے جھارکھنڈ اسمبلی کے مو نسون سیشن کے چوتھے دن جے ایم ایم کے ممبر اسمبلی سدیوو کمار سونو کی طرف سے اسمبلی میں اٹھائے گئے سوال کے بعد یہ اعلان کیا۔ غور طلب ہے کہ ذات پرمبنی مردم شماری اور پسماندہ افراد کے لیے ریزرویشن کے سوال پر ایوان میں کافی دیر تک بحث ہوتی رہی، تاہم وزیر اعلیٰ کے اعلان کے بعد اپوزیشن نے کچھ سوالات بھی کئے۔بی جے پی کے ایم ایل اے نیل کنٹھ سنگھ منڈا نے آدی باسیوں کی مسلسل کم ہوتی آبادی پر حکومت سے سوال کیا۔ ان کا سوال تھا :’یہ کیوں ہو رہا ہے ، یہ کیسے رکے گا ، حکومت اس کے بارے میں کیا سوچتی ہے ، اس کی و ضاحت ہونی چاہیے‘۔
وہیں اے جے ایس یو کے ایم ایل اے سدیش مہتو نے دہلی میں آل پارٹی نمائندگان کی روانگی سے قبل ریاست میں ایک آل پارٹی میٹنگ کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کے اندر اس پر کل جماعتی میٹنگ ضروری ہے۔مانسون سیشن کے دوران یہ پہلا موقع تھا کہ حکمراں جماعت اور اپوزیشن کے ارکان اسمبلی متحد نظر آئے۔ دیکھنا یہ ہوگا کہ پی ایم نریندر مودی کی کال کب آتی ہے ، اور کب جھارکھنڈ کی آل پارٹی کے نمائندگان ذات پر مبنی مردم شماری اور پسماندہ لوگوں کے ریزرویشن کے معاملے پر دہلی کا دورہ کرتے ہیں۔ ساتھ ہی یہ دیکھنا بھی دلچسپ ہوگا کہ بہار کے بعد جھارکھنڈ حکومت کے موقف پر پی ایم مودی کیا جواب کیا ہوتا ہے ۔