ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / راجیہ سبھا انتخابات میں کانگریس کے 3اوربی جے پی کا ایک امیدوارمنتخب ؛جے ڈی ایس کا بائیکاٹ۔دوسینئر کانگریس اراکین کے ووٹ مسترد

راجیہ سبھا انتخابات میں کانگریس کے 3اوربی جے پی کا ایک امیدوارمنتخب ؛جے ڈی ایس کا بائیکاٹ۔دوسینئر کانگریس اراکین کے ووٹ مسترد

Sat, 24 Mar 2018 10:44:54    S.O. News Service

بنگلورو،23؍مارچ (ایس او نیوز) ریاستی اسمبلی سے راجیہ سبھا کی 4سیٹیں پُر کرنے آج ہوئے انتخابات کے بعد الیکشن افسر ایس ایم کمار سوامی نے نتائج کا اعلان کردیا ۔ حسب توقع کانگریس کے تمام 3 امیدوار کامیاب ہوگئے۔ اسی طرح بی جے پی امیدوار راجیو چندرشیکھر نے بھی 50 ووٹس حاصل کرکے زبردست کامیابی درج کی ۔

حسب توقع جے ڈی ایس کے تمام 7باغی اراکین اسمبلی نے کانگریس کے تیسرے امیدوار کے حق میں ووٹ دئے ۔ کانگریس کے ایل ہنومنتیا کو 44، ڈاکٹر سیدناصر حسین کو 42 اور جی سی چندرشیکھر کو 46 ووٹ حاصل ہوئے۔

آج صبح جب پولنگ شروع ہوئی تو جے ڈی ایس نے رٹرننگ افسر پر الزام لگایا کہ انہوں نے حکمران کانگریس پارٹی کے ساتھ مل کر کانگریس کے 2اراکین کو دوسری مرتبہ ووٹ کرنے کا موقع دیا ہے جنہوں نے اس سے قبل کراس ووٹنگ کردی تھی اس نے اس مبینہ جانبدار الیکشن افسرکو انتخابی کارروائی سے ہٹانے کا مطالبہ کیا ۔ حالانکہ وزیراعلیٰ سدارامیا نے مداخلت کرتے ہوئے اس الزام کو غلط قرار دیا ۔انہوں نے بتایا کہ 2اراکین اسمبلی کاگوڈ تمپا اور باباراؤ چنچنسور نے انہیں جاری پہلے بیلٹ پیپرمیں غلطی کردی تھی اس لئے انہیں دوبارہ بیلٹ پیپرس دئے گئے تھے۔ قانون میں اس کی گنجائش ہے۔ حالانکہ ان 4سیٹوں کے لئے 5امیدوار میدان میں تھے۔ جے ڈی ایس کے ریاستی سکریٹری جنرل بی ایم فاروق بھی امیدوار تھے۔ جب پولنگ کارروائی چل رہی تھی تو جے ڈی ایس کے ریاستی صدر وسابق وزیراعلیٰ ایچ ڈی کمارسوامی نے دعویٰ کیا کہ کانگریس کے 2 سینئر اراکین اسمبلی نے پارٹی امیدوارکے خلاف کراس ووٹنگ کردی تھی ۔ان دونوں نے دوسرے امیدوار کو اپنا ووٹ دے دیا تھا۔حالانکہ حکمران پارٹی کے ایجنٹ کی درخواست پر رٹرننگ افسر مورتی نے دونوں کو دوبارہ ووٹ کرنے تازہ بیلٹ پیپرس جاری کئے تھے۔

ریاستی وزیر برائے مالگذاری کاگوڈ تمپا جو سابق اسپیکر بھی ہیں اورسابق وزیر ورکن اسمبلی بابو راؤ چن چنسور نے پہلے بیلٹ پیپرس کراس ووٹنگ کردی تھی جب انہوں نے یہ بیلٹ پیپرس اپنے ایجنٹ کو دکھایا تو پتہ چلا کہ انہوں نے پارٹی وھپ کے خلاف ووٹ دیا ہے ۔اس کراس ووٹنگ کو دیکھ کر ایجنٹ نے احتجاج کیا تو الیکشن افسر نے ان دونوں کو دوبارہ ووٹ کرنے کا موقع دے دیا ۔ اس پر کمار سوامی نے الزام لگایا کہ یہاں غیر قانونی ووٹنگ کی جاری ہے ۔الیکشن افسر کے خلاف شکایت کرتے ہوئے کمارسوامی نے اس انتخابی کارروائی کو روک کر دوبارہ الیکشن کروانے الیکشن کمشنر سے مطالبہ کیا ۔ انہوں نے الیکشن کمشنر سے اس بات کی بھی شکایت کی کہ الیکشن افسر مورتی حکمران پارٹی کے ساتھ اس غیرقانونی ووٹنگ میں شامل ہوگئے ہیں۔

جے ڈی ایس کو ہار کا خوف: وزیراعلیٰ سدارامیا نے جے ڈی ایس کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہاکہ جے ڈی ایس ہار کے ڈر سے عمداً اس طرح کے الزامات لگارہی ہے ۔وہ ہر چیز آزما چکی ہے ۔ 7باغی اراکین اسمبلی کے خلاف عدالت سے بھی رجوع ہوئے لیکن وہاں بھی کامیابی نہیں ملی اب اس طرح کے الزامات لگائے جارہے ہیں ۔ اس شکایت کے باوجود جب الیکشن افسر کو نہیں ہٹایا گیا تو جے ڈی ایس کے اراکین اسمبلی نے پولنگ کا بائیکاٹ کیا اور الیکشن کمشنر کے پاس تحریری شکایت درج کرادی جس کے نتیجہ میں ووٹوں کی گنتی کافی تاخیر سے شروع ہوئی اور نتائج کا اعلان بھی دیر سے ہوا۔ جے ڈی ایس کی اس شکایت پر الیکشن کمیشن نے الیکشن کی کارروائی تو نہیں روکی لیکن دومرتبہ ووٹ کرنے والے کاگوڈتمپا اور چن چنسورکے دو ووٹوں کو مسترد کردیا ۔ الیکشن افسر مورتی کو ہٹاکربقیہ انتخابی کارروائی کیلئے ایس کمار سوامی کو الیکشن افسر مقررکردیا۔

کمارسوامی کی بہانہ بازی:  حالانکہ اس الیکشن میں کانگریس کے تیسرے امیدواراور جے ڈی ایس کے بی ایم فاروق کے درمیان مقابلہ تھا۔ جے ڈی ایس کے سات باغی امیدواروں کی کراس ووٹنگ کے بھروسہ کانگریس نے تیسرے امیدواروں کو بھی میدان میں اتارا ۔ ابتداء میں جے ڈی ایس نے چوتھی سیٹ کے لئے کانگریس کی تائید حاصل کرنے کی کوشش کی ۔یہ کوشش ناکام رہی ۔نہ صرف جے ڈی ایس کے سات باغی اراکین بلکہ چھوٹی پارٹیوں کے اراکین اسمبلی نے بھی کانگریس کے تیسرے امیدوار کے حق میں ووٹ دیا۔ کانگریس کے ڈاکٹر سیدناصر حسین کو 44 کی جگہ 42 ووٹس اس لئے ملے کہ کانگریس کے کارگوڈ تمپا اوربابوراؤ چن چنسور کے ووٹ گنتی نہیں کئے گئے ۔اس چناؤ پر رد عمل ظاہرکرتے ہوئے چند قائدین نے کہا کہ پولنگ کے عین وقت پولنگ کا بائیکاٹ کرنا کمارسوامی کی بہانہ بازی تھی ۔ کیونکہ فاروق کوپھر ایک بار کراری شکست سے دوچار ہونا پڑتا ۔ راجیہ سبھا کے پچھلے دو سالہ انتخابات میں بھی بی ایم فاروق کو شکست کھانی پڑی تھی ۔


Share: