ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / روزگار ضمانت اسکیم کے بقایاجات ادا کرنے مرکز پر زور،کرشنابائرے گوڈا کے بیان پر کونسل میں بی جے پی برہم

روزگار ضمانت اسکیم کے بقایاجات ادا کرنے مرکز پر زور،کرشنابائرے گوڈا کے بیان پر کونسل میں بی جے پی برہم

Wed, 13 Feb 2019 00:32:50    S.O. News Service

بنگلورو،12؍فروری(ایس او نیوز) قومی روزگار ضمانت اسکیم کے تحت مرکزی حکومت کی طرف سے کرناٹک کو 2049کروڑ روپیوں کی رقم ابھی ادا کرنی باقی ہے۔ ریاستی حکومت اس رقم کی عدم موصولی کے باوجود مزدوروں کو اجرت ادا کررہی ہے۔یہ بات آج ریاستی وزیر برائے دیہی ترقیات و پہنچایت راج کرشنا بائرے گوڈا نے کونسل میں کہی۔

کرشنا بائرے گوڈا کے اس بیان پر بی جے پی چراغ پا ہوگئی اور کچھ دیر کے لئے ایوان بالا میں ہنگامہ مچ گیا۔ کرشنا بائرے گوڈا نے کہاکہ گزشتہ سال 1146کروڑ روپے اور اس سے پہلے 900کروڑ روپے مرکزی حکومت کی طرف سے نہیں آئے، جبکہ رواں سال کی اجرت کو اگر جوڑا جائے تو مجموعی رقم 12713کروڑ روپے ہوگی۔ کرشنا بائرے گوڈا کے ان اعداد وشمار پر بی جے پی اراکین برہم ہوگئے۔ وقفۂ سوالات کے دوران کانگریس رکن پرسنا کمار کے سوال کا جواب دیتے ہوئے کرشنا بائرے گوڈا نے یہ اعداد پیش کئے ، اس پر مداخلت کرتے ہوئے اپوزیشن لیڈر کے سرینواس پجار نے الزام لگایا کہ مرکزی حکومت کو بدنام کرنے کے مقصد سے اس طرح کا جواب دیا جارہاہے۔

انہوں نے کہاکہ ریاستی حکومت کی طرف سے روزگار ضمانت اسکیم کے لئے درکار فنڈز کی مکمل معلومات مرکزی حکومت کو فراہم نہیں کی گئی ہیں۔ اس مرحلے میں مداخلت کرتے ہوئے وزیر برائے آبی وسائل ڈی کے شیوکمار نے کرشنا بائرے گوڈا کا بھرپور دفاع کیا اور کہا کہ غریب مزدوروں نے جو محنت کی ہے ریاستی حکومت اس کی اجرت مرکزی حکومت سے طلب کررہی ہے۔ اجرت میں حصے داری برداشت کرنے کا قانون قومی روزگار ضمانت اسکیم کے تحت مرکزی حکومت نے ہی ترتیب دیا ہے۔ اگر اجرت نہیں دینا ہے تو اس قانون کو مرکزی حکومت بدل سکتی ہے۔ ایسا کرنے کی بجائے اگر اجرت کی ادائیگی میں ٹال مٹول کیا جاتا ہے تو یہ نہ صرف ریاستی حکومت بلکہ محنت کش بے روزگار مزدوروں سے کھلی ناانصافی بھی ہے۔ دیگر کانگریس اراکین بھی کرشنا بائرے گوڈا کی تائید میں کھڑے ہوگئے۔

اس مرحلے میں اپوزیشن لیڈر نے کہاکہ ریاستی حکومت کی طرف سے مطالبہ کرتے ہی منظور کرلیا جائے ایسا کوئی ضابطہ بھی نہیں ہے۔ پھر بھی حکومت نے جتنے فنڈز کا مطالبہ کیا ہے مرکز نے مہیا کروایا ہے۔ ڈی کے شیوکمار نے کہاکہ ریاستی حکومت کی طرف سے تمام معلومات اور فنڈز کے تخمینے مرکز کو سونپے گئے ہیں۔ یہ تمام تخمینے صرف غریب مزدوروں کی اجرت سے ہی جڑے ہوئے ہیں۔ قومی روزگار ضمانت اسکیم کے تحت ریاست کو واجب الادا رقم 2049کروڑ روپے ادا کرنے کے لئے ریاست کے 25اراکین پارلیمان پر مشتمل ایک وفد کے ساتھ بھی مرکزی حکومت سے نمائندگی کی گئی اس کے بعد صرف 110کروڑ روپے جاری کئے گئے۔

انہوں نے کہاکہ مرکزی حکومت پر ریاستی حکومت محض اس بات پر زور دے رہی ہے کہ پچھلے دو سال کی جو بقیہ رقم ادا نہیں کی گئی ہے فوراً اسے ادا کیا جائے۔ رواں سال اس اسکیم کے تحت اجرت کی رقم کا تخمینہ ابھی مکمل طور پر لگایا نہیں جاسکا ہے۔ اس کے بعد مرکزی حکومت کو اعداد وشمار پیش کئے جائیں گے اور تب اس رقم کی ادائی کا سوال اٹھے گا۔


Share: