نئی دہلی،20؍جون (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا )ریزرو بینک آف انڈیا(آربی آئی )کے گورنر رگھو رام راجن کی جانب سے دوسری مدت کار سے انکار کرنے کے بعد اب ان کے جانشین کو لے کر قیاس آرائیوں کا بازار گرم ہو گیا ہے۔راجن نے ستمبر کے مہینے میں اپنی مدت کار ختم ہونے کے بعد درس وتدریس کے شعبہ میں واپس لوٹنے کے ارادے کا اعلان کیا ہے۔راجن کے اس فیصلے کے بعد اپوزیشن اور صنعتی دنیا نے مرکزی حکومت پر نشانہ لگایا ہے۔انکا کا کہنا ہے کہ راجن کی طرف سے دوسری مدت کار کو قبول نہ کرنے کا فیصلہ ملک کے لیے نقصاندہ ہے کیونکہ انہوں نے معاشی استحکام لانے کے ساتھ ساتھ عالمی سطح پرہندوستان کے اعتبار کو بڑھانے کا کام کیا۔دوسری طرف، اپوزیشن نے حملہ آور تیور اپناتے ہوئے الزام لگایا کہ راجن پر منصوبہ بند طریقے سے حملے بولے گئے۔بی جے پی لیڈر سبرامنیم سوامی مسلسل ریزرو بینک کے گورنر پر نشانہ لگاتے رہے لیکن حکومت خاموش تماشائی بنی دیکھتی رہی۔اس معاملے میں سب سے زیادہ جارحانہ بیان سابق مرکزی وزیر منیش تیواری کا آیاہے ۔ایک ٹوئٹ کرکے تیواری نے مودی حکومت پر طنز کسا اور کہاکہ حکومت وجے مالیا کو آر بی آئی گورنر مقرر کر سکتی ہے آخر کار انہیں بینکنگ سسٹم کا کافی تجربہ ہے۔وہیں منموہن سنگھ حکومت میں وزیر خزانہ رہے پی چدمبرم نے کہاکہ میں ڈاکٹر رگھو رام راجن کے اپنی مدت کارختم ہونے کے بعد آر بی آئی چھوڑنے کے فیصلے سے مایوس اوردکھی ہوں، لیکن میں کہنا چاہوں گا کہ مجھے اس پر کوئی تعجب نہیں ہواہے ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے مشہوردانشور اور ماہر اقتصادیات کے خلاف اکسانے والے، بے بنیاد اور بچکانے حملے کی سوچی سمجھی اور منصوبہ بند مہم کے ذریعے اس واقعہ کو دعوت دیا ہے۔کانگریس نائب صدر راہل گاندھی نے بھی اس مسئلے پر وزیر اعظم نریندر مودی پر نشانہ سادھا ۔راہل نے ٹوئٹ کیا، وزیر اعظم نریندر مودی کو سب کچھ پتہ ہے۔انہیں راجن جیسے ماہرمعاشیات کی ضرورت نہیں ہے۔