نئی دہلی،19/مارچ (ایس او نیوز/ آئی این ایس انڈیا) سابق چیف جسٹس رنجن گوگوئی کو صدر کے ذریعہ راجیہ سبھا کا رکن نامزد کئے جانے پر کافی ہنگامہ ہوا۔
کانگریس سمیت حزب اختلاف کے کئی لیڈروں نے اس کو لے کر گوگوئی پر سوال اٹھائے۔تب سابق چیف جسٹس نے کہا تھا کہ وہ اس بارے میں حلف لینے کے بعد بات کریں گے۔آج گوگوئی نے راجیہ سبھا میں پارلیمنٹ رکن کے طور پر حلف لے لیا لیکن اپوزیشن کے سوالوں کو لے کر کوئی بیان نہیں دیا۔گوگوئی بولے، کوئی بیان نہیں دینا۔حلف لینے کے بعد جب گوگوئی پارلیمنٹ سے باہر نکل رہے تھے تو صحافیوں نے ان سے اپوزیشن کے الزامات پر جواب جاننے کی کوشش کی لیکن انہوں نے کچھ نہیں بولا۔گوگوئی نے صرف اتنا ہی کہا کہ وہ اس پر کوئی بیان نہیں دینا چاہتے ہیں۔
گوگوئی کی نامزدگی پر اہم اپوزیشن جماعتوں نے گوگوئی پر تنقید کرتے ہوئے مرکزی حکومت کو نشانے پر لیا۔صدر رام ناتھ کووند نے پیر کو سابق سی جے آئی کا نام راجیہ سبھا کے لئے نامزد کیا ہے۔گوگوئی نے منگل کو اس بارے میں میڈیا کے سامنے کچھ بھی کہنے سے انکار کر دیا۔انہوں نے کہا تھاکہ میں شاید کل دہلی جاؤں گا۔
پہلے مجھے حلف لینے دیجئے پھر میں تفصیل سے میڈیا سے بات کروں گا کہ میں کیوں راجیہ سبھا جا رہا ہوں۔ملک کے 46 ویں سی جے آئی رہے گوگوئی کو راجیہ سبھا بھیجے جانے کی مخالفت ہو رہی تھی۔
کانگریس کے کئی رہنماؤں نے اس پر ٹویٹ کئے اور صدر کے فیصلے پر سوال اٹھائے تھے۔کانگریس ممبر پارلیمنٹ ششی تھرور نے ٹویٹ کر لوگوں کو مرکزی وزیر نتن گڈکری اور آنجہانی لیڈر ارون جیٹلی کے ایک پرانے بیان کی یاد دلائی۔جس میں انہوں نے کہا تھا کہ پوسٹ ریٹائرمنٹ جاب کے چکر میں عدلیہ کی آزادی متاثر ہو رہی ہے۔