ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / ساحلی اضلاع میں’’ مچھلی کے قحط ‘‘ کا اعلان کرنے ماہی گیروں کا مطالبہ

ساحلی اضلاع میں’’ مچھلی کے قحط ‘‘ کا اعلان کرنے ماہی گیروں کا مطالبہ

Mon, 02 Mar 2020 11:40:34    S.O. News Service

منگلورو، 2؍مارچ (ایس او نیوز ) کرناٹک کے تین ساحلی اضلاع کے زائد از 2؍لاکھ روایتی ماہی گیر مچھلیوں کی عدم دستیابی سے متاثر ہیں۔ماہی گیری کا سیزن اگست سے شروع ہوتا ہے اور انہوں نے کہا کہ ’’مچھلی کے قحط‘‘ کا اعلان کر کے ان کی مدد کی جائے۔

روایتی ماہی گیروں کی انجمن مارونتے کے موہن کھاروی نے کہا کہ پچھلے چار دہوں میں آج کی طرح ہم نے مچھلیوں کا قحط نہیں دیکھا۔ روایتی ماہی گیر عموماً علی الصباح تقریباً 2 بجے سمندر میں اترتے ہیں اور مناسب مچھلیوں کے شکار کے بعد ساحل لوٹتے ہیں۔

موہن کھاروی نے کہا کہ زیادہ دنوں سے ہم خالی کشتیوں کے ساتھ لوٹے ہیں۔ تین ساحلی اضلاع میں تین طرح کی روایتی کشتیاں ہیں۔ تقریباً 8000 بڑی کشتیاں جس میں 30 افراد سوار ہوسکتے ہیں اور جن سے آؤٹ بورڈ انجن جڑے ہوئے ہیں اور تقریباً 9000 روایتی کشتیاں جن میں دو یا تین لوگ سوار ہوسکتے ہیں جن میں چھوٹی آؤٹ بورڈ انجمن ہوگی یا وہ انجن کے بغیر ہوں گے۔ تقریباً 2 لاکھ لوگوں کا روز گار راست طور پر اس سے جڑا ہوا ہے اور کم از کم ؍10 لاکھ لوگوں کا انحصار اس پر ہے ۔انہوں نے ذرائع سے بات کرتے ہوئے کہ محکمہ ماہی گیری کے پاس ماہی گیروں کے شکار کا کوئی ڈیٹا نہیں ہے ۔

منگلورو کے قریب سسی ہتلو روایتی ماہی گیروں کی انجمن کے شو بیندر سسی ہتلو نے زمینی حقیقت جاننے کے لئے فوری طور پر سرو ےکرنے کا مطالبہ کیا۔انہوں نےکہا سیزن کے دوران ماہی گیروں نے 25000 بھی حاصل نہیں کئے۔ نومبر تک مضطرب سمندر کے سبب ماہی گیر باہر نہیں نکل سکے اس کے بعد کوئی شکار دسیتاب نہیں تھا۔

سسی ہتلو نے کہا کہ حکومت کی جانب سے 2017 سے سیونگ کم ریلیف کے تحت ماہی گیروں کو رقم بھی نہیں ملی ہے۔ مرکز ، ریاست اور ماہی گیروں کی کوپریٹیوں سوسائٹی کے رکن اسکیم کے لئے مانسون کے تین مہینوں کے دوران مساوی طور پر 1500 روپے عطیہ دیتے ہیں۔

اپنی حالیہ رپورٹ میں کالج فشریز منگلورو نے نوٹ کیا کہ ماحول میں زیادہ درجہ حرارت نے کاربن ڈائی آکسائڈ کی مقدار کو بڑھا دیا ہے جس سے گھلی ہوئی آکسیجن کی سطح گھٹ کر پانی تیزابی ہوگیا ہے جس سے افزائش میں کمی ہوئی ہے۔


Share: