بھٹکل،15؍اکتوبر(ایس او نیوز) پچھلےدو چار دنوں سے جنوبی کینرا، اڈپی ضلع اور شمالی کینرا میں مسلسل بارش نے عام زندگی کو بہت ہی زیادہ متاثر کرنے کے ساتھ کئی مقامات پر گھروں ، باغات، اور فصلوں کوبھاری نقصان پہنچایا ہے۔ خیال رہے کہ محکمہ موسمیا ت نے تیز بارش کی پیش گوئی کرتے ہوئے بہت سے اضلاع کے لئے ریڈ اور آورینج الرٹ جاری کیا تھا۔
شمالی کینرا میں نقصانات : کل بدھ کے دن ساحلی علاقے میں سب سے زیادہ برسات ہونے کی وجہ سے نشیبی علاقوں ریاستی ہائی وے ، نیشنل ہائی وے اوراندرونی سڑکوں پر اکثر جگہ پانی جمع ہوگیا۔ جس سے عوامی چہل پہل اور موٹر گاڑیوں کی آمد و رفت میں رکاوٹیں پیدا ہوگئیں۔ شمالی کینرا کے کئی تعلقہ جات میں کھیتوں میں پانی جمع ہوجانے سے کٹنے کے لئے تیار اور کچھ مقامات پر کٹی ہوئی فصلیں تباہ ہوگئی ہیں۔کاروار شہر سمیت دوسرے مضافاتی علاقوں میں گھروں کے اندر پانی گھسنے کی وجہ سے قیمتی ساز وسامان برباد ہوگیا۔خطرے میں گھرے ہوئے بہت سے خاندانوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیاگیا۔
ادھر ہوناور سے ملی خبروں کے مطابق کئی دیہی علاقوں کے کھیتوں اور کنوؤں میں برساتی سیلاب کا پانی گھس گیا ہے جس سے لاکھوں روپے مالیت کی فصلیں تباہ ہوگئی ہیں۔ چنداور کے اطراف والے دیہی علاقے میں زیادہ تر تباہی اور نقصانات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔اس کے علاوہ موسلادھار بارش کی وجہ سے کئی باغات کے کمپاؤنڈ س کی دیواریں گر گئی ہیں۔پانی کے پمپ اور دوسرا ساز وسامان برباد ہوگیا ہے۔ابھی حال ہی میں بوئے گئے سپاری کے پودے پانی میں ڈوب کر خراب ہوگئے ہیں۔ بھٹکل، کمٹہ انکولہ کاروار سمیت پڑوسی علاقہ گوا میں بھی بدھ کی دوپہر کوجاری موسلادھار بارش رات تک جاری رہی جس سے تمام علاقوں کے نشیبی علاقے اور راستے وغیرہ تالاب میں تبدیل ہوگئیں، گوا سے کنداپور تک نیشنل ہائی وے 66 پر مختلف علاقوں میں پانی جمع ہوجانے سے ہائی وے پر ٹریفک نظام بری طرح متاثر رہا۔
جنوبی کینرا میں برسات سے تباہی: جنوبی کینرا سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق یہاں بھی شہری اور دیہی علاقوں میں بھاری برسات سے عام زندگی بری طرح متاثر ہوئی اور کئی جگہ برساتی جمع ہونے سے سڑکوں اور بازاروں میں سیلاب کی سی صورتحال پیدا ہوگئی۔گھروں، دکانوں،کھیتوں اور باغات میں پانی گھس آیا جس سے فصلیں تباہ ہوگئی ہیں۔منگلورو کے پمپ ویل، ننتور، امبیڈ کر سرکل وغیرہ پر سڑکیں تالاب کی شکل اختیار کرگئیں۔بعض مقامات پر نیشنل ہائی وے کے کناروں پر جمع ہونے والا پانی قریبی دکانوں اور ہوٹلوں میں گھس گیا۔پڈیل کے پاس ریلوے انڈ ر پاس ایک تالاب میں تبدیل ہوگیا۔اس طرح بیشتر جگہوں پر موٹر گاڑیوں کی آمد ورفت متاثر ہوئی۔جبکہ مولکی میں بھاری برسات کے نتیجے میں میدانی علاقوں میں پانی جمع ہوگیا ہے اور سیلابی کیفیت سامنے آئی ہے ۔مختلف جگہوں پر سڑکیں پانی میں ڈوب گئی ہیں۔ اس کے علاوہ ایک گھر کی دیواروں میں شگاف پیدا ہوگیا ہے ، جبکہ ایک بڑا درخت گرنے کی وجہ سے سیمنٹ بلاک تیار کرنے والا شیڈ تباہ ہوگیا ہے۔دوسری طرف مولکی مچھلی مارکیٹ کا ایک حصہ ٹوٹ کر گرگیااور ملبہ سڑک پر آگرا۔جسے بعد میں بلدیہ والوں نے جے سی بی کی مدد سے ہٹادیا۔
اڈپی میں برسات کی صورتحال: اڈپی ضلع سے ملی رپورٹس کے مطابق نیشنل ہائی وے 169پرمنی پال کے قریب ایک بہت بڑا درخت زمین سے اکھڑ کر گرنے کی وجہ سے کئی گھنٹوں تک ٹریفک بند رہی۔ ناڈور گرام پنچایت علاقے میں اس سے قبل ستمبر میں ہوئی برسات کی وجہ سے جو چھوٹاسا پل ٹوٹ کرسیلاب میں بہہ گیا تھااور بعد میں مقامی لوگوں نے عارضی طور پر اس کو درست کرلیا تھا وہ پل اس مرتبہ پھر ایک بار بہہ گیا ہے جس سے دودیہاتوں کے درمیان رابطہ کا راستہ کٹ گیا ہے۔اڈپی ضلع کے کئی دیہاتوں کے کھیتوں اور باغات میں برسات کی وجہ سے سیلابی کیفیت پیدا ہوگئی جس سے تیار فصلیں تباہ ہوگئی ہیں۔مسلسل پانی برسنے کی وجہ سے کئی نشیبی اور میدانی علاقے تالابوں اور ندیوں میں تبدیل ہوگئے ہیں۔
ملپے بندرگاہ پر ماہی گیر کشتیاں: ادھرمحکمہ ماہی گیری کی طرف سے ملی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے گہرے سمندر میں ماہی گیری کے لئے نکلی ہوئی ریاستی اور بیرون ریاست کی کشتیاں لوٹ ملپے بندرگاہ پر آگئی ہیں، اور تقریباً 400چھوٹی بڑی ماہی گیر کشتیاں اس وقت ملپے بندرگاہ میں لنگر انداز ہوگئی ہیں۔ اورابھی مزید کشتیاں بندرگاہ کی طرف لوٹ رہی ہیں۔ چونکہ مقامی کشتیوں کے علاوہ کیرالہ اور تملناڈو کی کشتیاں بھی ملپے بندرگاہ پرآرہی ہیں اس لئے یہاں کشتیوں کو لنگر ڈالنے کے لئے جگہ کی تنگی محسوس کی جانے لگی ہے۔
آئندہ 4 دنوں تک ہوگی برسات: محکمہ موسمیات نے پیش گوئی کی ہے کہ خلیج بنگال میں 16اکتوبر کو دوبارہ ہوا کے دباؤمیں کمی آنے والی ہے جس کی وجہ سے ریاست بھر میں اور خاص کر ساحلی اضلاع میں آئندہ مزید 4 دنوں تک تیز برسات ہونے کے امکانات ہیں۔