نئی دہلی،18؍نومبر (ایس او نیوز؍ایجنسی) دہلی اور اس سے ملحقہ شہروں میں فضائی آلودگی کے پھیلاؤ سے نمٹنے کے اقدامات کو لے کر سپریم کورٹ میں جاری سماعت کے دوران بدھ کو ایک مضحکہ خیز بحث دیکھنے میں آئی۔ سماعت کے دوران سپریم کورٹ کی بنچ نے ٹی وی میڈیا پر حملہ کرنے کے علاوہ مرکزی اور ریاستی حکومتوں پر طنز کیا۔ عدالت نے حکومتوں اور بیوروکریسی کو آلودگی سے نمٹنے کے لیے اقدامات نہ کرنے کا مشورہ دیا۔ اس کے علاوہ عدالت نے تنقید کرنے والوں کو بھی آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ وہ سٹار ہوٹلوں میں بیٹھ کر پرالی جلانے کے بیانات دیتے رہتے ہیں۔
چیف جسٹس این وی رمنا کی قیادت والی بنچ نے بغیر کوئی قدم اٹھائے اداروں پر تنقید کرنے والوں پر بھی حملہ کیا۔ عدالت نے کہا کہ ٹیلی ویژن پر ہونے والی بحثیں کسی سے زیادہ آلودگی کا باعث بنتی ہیں۔ عدالت نے اب اس معاملے کی آئندہ بدھ کو سماعت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ آئیے جانتے ہیں سپریم کورٹ نے اس معاملے میں کیا کہا۔
آپ سب کہتے ہیں کہ آلودگی کی بنیادی وجہ گاڑیاں ہیں۔ لیکن اب بھی دہلی میں بڑے پیمانے پر ایندھن استعمال کرنے والی کاریں چل رہی ہیں۔ انہیں کون روکے گا؟ دہلی حکومت کا کہنا ہے کہ ان پر پابندی لگانے اور گھر سے کام کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا جب تک کہ دوسری ریاستیں قدم نہیں اٹھاتی ہیں۔ ہم امید کرتے ہیں کہ پینل کی طرف سے اس سلسلے میں جلد کوئی لائحہ عمل دیا جائے گا۔