نئی دہلی،09 اکتوبر (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) سپریم کورٹ نے سبری مالامندر میں تمام عمر کی عورتوں کے داخلہ کی اجازت پر مبنی فیصلے کے خلاف دائر نظر ثانی درخواست پر فوری سماعت سے منگل کو انکار کر دیا۔ کورٹ نے اشارہ دیا ہے کہ درخواست پر دسہرہ چھٹی کے بعد غور کیا جا سکتا ہے۔ چیف جسٹس جسٹس رنجن گوگوئی، جسٹس سنجے کشن کول اور جسٹس کے ایم جوزف کے بنچ نے شلجا وجین کی دلیل پر غور کیا۔ وجین نے اپنے وکیل کے ذریعے دائر نظر ثانی درخواست میں دلیل دی کہ پانچ ججوں کے آئین بنچ نے پابندی ہٹانے کا جو فیصلہ دیا وہ مکمل طور ناقابل قبول ہے۔ بنچ نے کہا کہ اسے مناسب وقت پر درج کیا جائے گا۔بنچ نے کہا کہ ویسے بھی نظر ثانی عرضی پر سماعت کے کمرے میں ہو گی، نہ کہ کھلی عدالت میں۔عرضی گزار کی جانب سے پیش وکیل نے فیصلے پر روک لگانے کی بھی اپیل کی اور کہا کہ پوجا اور’’ زیارت‘‘ کے لیے16 اکتوبر کو مندر کھولا جانا ہے۔بہرحال بنچ نے کہا کہ نظر ثانی کی درخواست پر دسہرہ کی چھٹیوں کے بعد ہی سماعت کی جا سکتی ہے۔ ایسوسی ایشن کے علاوہ ایک اور درخواست میں سپریم کورٹ کے 28 ستمبر کے حکم پر نظر ثانی کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔این ایس ایس نے یہ عرضی دائر کی ہے۔ اس وقت کے چیف جسٹس دیپک مشرا کی صدارت وا لے آئین بنچ نے 28 ستمبر کو 4: 1 کی اکثریت سے دیئے فیصلہ میں کہا تھا کہ مندر میں خواتین کے داخلے پر پابندی لگانا صنفی امتیاز ہے اور یہ روایت ہندو خواتین کے حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ وجین کی نظر ثانی درخواست میں دلیل دی گئی ہے کہ سائنسی یا منطقی بنیاد پر، مذہبی عقیدے کا موازنہ نہیں کیا جا سکتا۔درخواست میں کہا گیا ہے کہ یہ خیال بے بنیاد ہے کہ یہ فیصلہ انقلابی ہے۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ چونکہ خاص عمر کی حد والی خواتین کو پوجا کرنے کا حق پہلے سے حاصل ہے، ایسے میں صرف 40 سال کے انتظار (عمر کے معنوں میں پر پابندی نہیں کہا جا سکتا ہے اور ایسے میں یہ فیصلہ قانونی غلط ہے۔