ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / سرسی میں ایماندار افسر  کیا  ذات پات کی نذر ہورہے ہیں ؟:اےسی کےبعد ڈی وائی ایس پی، اب آگے کون؟

سرسی میں ایماندار افسر  کیا  ذات پات کی نذر ہورہے ہیں ؟:اےسی کےبعد ڈی وائی ایس پی، اب آگے کون؟

Fri, 20 Nov 2020 19:09:40    S.O. News Service

سرسی:20؍نومبر(ایس اؤ نیوز) اترکنڑا ضلع میں بہت پہلے سے  جاری ذات پات کی سیاست اور ایک طبقے کو خوش رکھنے والی سیاست نے ایماندار اور شفاف افسروں  کو بلی کا بکرا بنایا ہے۔ اب سیاسی دباؤ کے چلتے سرسی کےایک بااثر پولس افسر کو کنارےلگانےکی کوششیں جاری ہیں۔ ذرائع سے پتہ چلا ہے کہ اپنے محکمہ میں پوری ایمانداری کےساتھ خدمات انجام دینےکےباوجود پس پردہ کام کرنےو الے  ہاتھوں کی وجہ سے تبادلہ کا سامنا کررہےہیں۔

ذرائع کے مطابق سرسی کے ڈی وائی ایس پی گوپال کرشنا نایک (جی ٹی نایک) کو تبادلہ کی سزا دی جارہی ہے۔عوامی سطح پر کہا جارہاہےکہ  سرسی میں کچھ ماہ پہلے اعلیٰ ذات کے طبقے کے ایک مذہبی مرکز کے خلاف قدم اٹھانےپر انہیں تبادلہ کی سزا دی جارہی ہے۔ گزشتہ 15 برسوں سے اپنے دائرے میں رہتےہوئے محکمہ کی طرف سےبہترین خدمات انجام دینےکے بعد بھی ایک افسرسیاست کا شکار ہونے پر عوام نے سخت برہمی کا اظہار کیاہے۔ اسی طرح کچھ دنوں پہلے ایماندار افسر اسسٹنٹ کمشنر ڈاکٹر ایشور اُلاگڈی کا تبادلہ کیاگیا ۔ ایشور اُلاگڈی سرسی میں عوامی سطح پر بہت ہی مشہور و معروف اے سی میں شمار کئے جاتے ہیں۔ سیلاب ، کرونا وائرس اور جاترے کے موقع پر اے سی کی ٹھاٹھ باٹ چھوڑ کر سڑک پر کھڑے ہوکر خدمات انجام دی تھیں۔ ذرائع کی مانیں تو ان کا بھی اسی  ذات پات کی سیاست کی وجہ سے  تبادلہ کیا گیا تھا۔ اب ضلع بھر میں معروف گوپال کرشنا نایک بھی اسی  ذات پات کی سیاست  کا نشانہ بن رہے ہیں جس کا عوام کھلے عام اپنی برہمی کااظہار کررہےہیں۔ کڑک افسر کے طورپر مشہور گوپال کرشنانایک نے عوامی حمایت میں ایک مذہبی مرکز کےخلاف اقدام کیا تھا۔ وہاں تعمیر کردہ غیر قانونی دیوار کو توڑا گیا تھا۔ یہ سب کچھ بااثر افراد میں چبھنے لگا تھا، اور متعینہ مذہبی مرکز والے بھی ان کے تبادلے پر بضد تھے جو اب کامیاب ہوتے نظر آرہےہیں۔

عوام کے درمیان تبادلے کولےکر سخت مخالفت کی جارہی ہے، سوال اٹھایاجارہاہے کہ ایک طبقے کی خوشنودی کےلئے ایماندار افسر کاتبادلہ کہاں تک صحیح ہے؟۔اس سلسلےمیں عوام نے متنبہ کیا ہےکہ اگر کسی دباؤ کی وجہ سے ڈی وائی ایس پی گوپال کرشنا نایک کا تبادلہ کیا جاتاہے تو ودھان سبھا اسپیکر کے دفترکے سامنے احتجاج کیا جائےگا۔ اور جب تک ان کی میعاد پوری نہیں ہوتی تب تک کسی حال میں انہیں تبادلہ نہ کرنے کا پرزور مطالبہ کیا ہے۔


Share: