لکھنؤ،25/فروری(ایس او نیوز/یواین آئی)اترپردیش کی راجدھانی لکھنؤ میں پیر کو سنی سنٹرل وقف بورڈ کی ہوئی میٹنگ میں بورڈ نے سپریم کورٹ کی ہدایت پر حکومت کی جانب سے بابری مسجد کے لئے دی گئی پانچ ایکڑ زمین کو لینے کا فیصلہ کیا ہے ۔گذشتہ 9 نومبر کو سپریم کورٹ نے بابری مسجد۔رام مندر متنازع اراضی ملکیت معاملے میں اپنا فیصلہ سناتے ہوئے متنازع زمین پر رام مندر کی تعمیر اور بابری مسجد کی تعمیر کے لئے اجودھیا میں ہی کسی نمایاں مقام پر 5ایکڑ زمین فراہم کرنے کا فیصلہ سنایا تھا۔
سنی وقف بورڈ کے صدر زفر فاروقی نے بتایا کہ حکومت کی جانب سے فراہم کی گئی زمین پر مسجد کے ساتھ چیریٹیبل اسپتال،پبلک لائبریری اور سماج کے فلاح کی دیگر سہولیات کا نظم ونسق کیا جائے گا۔مسٹر فاروقی کے مطابق جلد ہی اجودھیا میں مسجد ودیگر سرگرمیوں کو بروئے کار لانے کے لئے ٹرسٹ قائم کیا جائے گا۔اور ٹرسٹ ہی مسجد سمیت دیگر چیزوں کی تعمیر اپنے وسائل سے کرے گا۔
مسٹر فاروقی نے بتایا کہ حکومت کی جانب سے دی گئی زمین پر تعمیرات کے لئے سنی وقف بورڈ ایک بھی پیسہ نہیں خرچ کرے گا۔نیز مسجد کا نام کیا ہوگا یہ بعد میں طے کیا جائے گا۔وقف بورڈ کی پیر کو یہاں ہوئی میٹنگ میں زمین لینے کا فیصلہ کیا گیا۔لیکن زمین لینے کے معاملے میں بورڈ کے اراکین مختلف فیہ نظر آئے ۔ میٹنگ میں شرکت کے لئے 6اراکین پہنچے تھے ۔ میٹنگ کی صدارت سنی وقف بورڈ کے چیئر مین زفر فاروقی نے کی۔ میٹنگ میں عدنان فاروق شاہ،جنید صدیقی،سید احمد علی،ابرار احمد، جنید احمد میٹنگ میں موجود رہے جبکہ عبدالرزاق خان اور عمران معبود نے میٹنگ کا بائیکاٹ کردیا۔سپریم کورٹ کے حکم پر عملد رآمد کرتے ہوئے یوپی حکومت نے پانچ فروری کولکھنؤ۔ایودھیا ہائی وے پر سوہاول تحصیل کے روناہی پولیس اسٹیشن کے تحت دھنی پور گاؤں میں بابری مسجد کی تعمیر کے لئے 5 ایکڑ زمین فراہم کرنے کی تجویز مرکز کو بھیجی تھی جسے مرکز نے قبول کرلیا اور اب یہی زمین سنی وقف بورڈ کو ملے گی۔