نئی دہلی29مارچ (ایس اونیوز؍ آئی این ایس انڈیا ) سی بی ایس ای کے دسویں کلاس کے ریاضی اور بارہویں کلاس کے معاشیات کے موضوغ کا دوبارہ امتحان لیے جانے کے اعلان کے خلاف سینکڑوں طالب علم آج یہاں جنتر منتر پر جمع ہوئے اور انہوں نے ہمیں انصاف چاہیے جیسے نعرے لگائے۔ ہاتھوں میں تختیاں تھامے ان طلباء نے بتایا کہ دوبارہ امتحان کی خبر کے بعد انہیں بہت تناؤ کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔ اکثر طلباء نے دعوی کیا کہ امتحانات سے ایک دن پہلے ہی تقریبا تمام پرچہ سوالات لیک ہو گئے تھے اور انہوں نے مطالبہ کیا کہ اگر دوبارہ امتحان ہوتا ہے تو پھر تمام تمام موضوعات کا ہونا چاہیے ۔ سینٹ تھامس اسکول کی دسویں جماعت کی طالبہ نے کہا کہ ہم دوبارہ امتحان کی خبر سن کر حیران تھے۔ اگر کچھ طالب علموں کو امتحان سے پہلے لیک پرچہ سوالات مل گئے تو اس کے لئے ہم پریشان کیوں ہوں۔ ان کے دوست نے کہاکہ ہم سیشن کے آغاز سے دباؤ میں تھے، ہم امتحان دے کر راحت محسوس کر رہے تھے؛ لیکن ہم نے صرف ڈیڑھ گھنٹے ہی راحت کی سانس لی ہوگی کہ مختلف نیوز چینلزکے ذریعہ علم ہوا کہ ہمیں دوبارہ امتحان میں بیٹھنا ہوگا جس کا مطلب یہ ہوا کہ ہمیں پھر سے مکمل کورس پڑھنا ہے۔ ایک اور طالب علم نے کہا کہ یہ ناممکن ہے کہ بورڈ کو لیک کی معلومات نہیں تھی، انہیں پیپر صبح ہی منسوخ کر دینا چاہئے تھا۔جنک پوری میں ایک نجی کوچنگ سینٹر چلانے والے روہت نے کہا کہ دوبارہ امتحان بارہویں گریڈر پر اضافی دباؤ بنائے گا؛ کیونکہ وہ انجینئرنگ، میڈیکل وغیرہ کے مختلف کورسز کے داخلہ امتحان کی تیاریوں میں مصروف ہیں۔ روہت نے کہا کہ میرے بہت سے طالب علموں نے امتحان سے ایک دن پہلے معاشیات کا لیک پیپر بھیجا تھا لیکن میں نے ان سے کہا کہ یہ صرف افواہیں ہیں، اس پر یقین نہ کریں ؛لیکن اب ایسا لگتا ہے کہ جس کو ہم افواہ سمجھ کر تردید کررہے تھے وہ سچائی تھی ۔