بھٹکل:15؍فروری (ایس او نیوز)بھٹکل شہر سے متصل شرالی میں نیشنل ہائی وے اتھارٹی کی طرف سے طئے کردہ 45میٹر کی توسیع والی شاہراہ کی تعمیر کا فیصلہ بدل کر 30میٹر تک محدود کئے جانےکی مخالفت میں جمعہ کے دن مقامی عوام نے غیر معینہ مدت کا دھرنا شروع کیا۔
ضلع انتظامیہ عوام مخالف رویہ اپنائے ہوئے ہے، عوامی نمائندوں کی طرف سے بھی اس مشکلات کے وقت کوئی خاص تعاون مل نہیں پارہاہے، ایک دولوگوں کے مفاد کی خاطر ہزاروں عوام کے مطالبہ کو نظر انداز کیا جانا قابل مذمت ہے۔ضلع انتظامیہ کو 45میٹر کی توسیع والی شاہراہ کی تعمیر کےلئے معاشی سطح پر کوئی دقت نہیں ہےتو پھر اس کےلئے کیوں پش و پیش کیاجارہاہے سمجھ سے باہر کی بات ہے ۔ اگر شاہراہ کی توسیع 30میٹر تک کی جاتی ہے تو آئندہ دنوں میں علاقے میں حادثات میں اضافہ ہونے کو کوئی روک نہیں سکتا۔ آئندہ ہونےوالی اموات، ہلاکتوں کی ذمہ داری اٹھانے کےلئے ضلع انتظامیہ تیار ہے تو اس سلسلے میں افسران تحریری تیقن دیں تو کام شروع کرنےکی مانگ رکھی۔ شاہراہ تعمیر کام کے لئے ضلع کی پتھر کان کنی سے بے تحاشہ لوٹ کی گئی ہے، عوام کی صحت ، اعتماد کا خیال نہ کرتےہوئے کروڑوں روپئے مالیت کی قدرتی دولت کو لوٹنا جاری ہے، عوام ترقی کو دیکھتے ہوئے سب کچھ سہہ کر اپنی جگہ بالکل خاموش ہیں۔ اب افسران عوام کے جذبات سے کھیلنے کی کوشش کررہے ہیں۔ ہماری مانگوں پر دھیان نہیں دیا گیا تو ضلعی سطح پر ہماری جدوجہد کو منظم کیاجائےگا، اس کے علاوہ بھٹکل اور ہوناور سمیت بقیہ علاقوں میں بھی شاہراہ کی توسیع 30میٹر کرنے کے لئے احتجاج کیا جائےگا۔ احتجاجیوں نےآئندہ جو بھی حادثات، ہلاکتیں ہونگی اس کے لئے ضلع انتظامیہ ہی ذمہ دار ہونے کا انتباہ دیا۔ احتجاجیوں نےکہاکہ متعلقہ افسران جائے دھرنا پہنچ کر تیقن دینے تک یہ دھرنا جاری رہنےکی بات کہی۔ اس موقع پر شرالی گرام پنچایت صدر وینکٹیش نائک، نائب صدر سنیتا ہیرورکر، تعلقہ پنچایت ممبر مالتی موہن دیواڑیگا، ضلع پنچایت سابق ممبر راما موگیر، وٹھل دئیمنے ، شری دھر آسارکیری ، بھٹکل بی جےپی صدر راجیش نائک منڈلی، بھاسکر دئیمنے ، شری دھر موگیر، شری دھرنائک، ناگپانائک، کیشوو نائک، جناردھن دیواڑیگا وغیرہ موجود تھے۔
جمعہ کے دھرنے کی مناسبت سے شرالی علاقے کی تمام دکانیں بند رکھتےہوئے دھرنا دے رہے احتجاجیوں کی مکمل حمایت کی۔ الویکوڑی درگا پرمیشوری مندر انتظامیہ کی طرف سے احتجاجیوں کے لئے دوپہر کے کھانےکا انتظام کیا گیا تھا۔ ڈی وائی ایس پی ویلنٹائن ڈیسوزا، سی پی آئی گنیش کےایل کی رہنمائی میں شرالی میں پولس سکیورٹی کے انتظامات کئے گئے تھے۔