ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / شمالی کرناٹک کے آب پاشی منصوبوں پر میٹنگ، رمیش جارکی ہولی کی غیر حاضری، ڈی کے شیوکمار سے سابق وزیر کے اختلافات کا نتیجہ

شمالی کرناٹک کے آب پاشی منصوبوں پر میٹنگ، رمیش جارکی ہولی کی غیر حاضری، ڈی کے شیوکمار سے سابق وزیر کے اختلافات کا نتیجہ

Tue, 07 May 2019 13:42:24    S.O. News Service

بنگلورو،7/مئی(ایس او نیوز)  شمالی کرناٹک کے آب پاشی منصوبوں کوآگے بڑھانے اور دریائے کرشنا کے لئے مہاراشٹرا کی طرف سے پانی فراہم کرنے میں رکاوٹ کے متعلق آج بلگاوی میں وزیر برائے آبی وسائل ڈی کے شیوکمار نے منتخب نمائندوں کا اجلاس طلب کیا جس سے کوکاک کے رکن اسمبلی اور سابق وزیر رمیش جارکی ہولی اور بلگاوی کی رکن اسمبلی لکشمی ہبالکر غیر حاضر رہے۔ بتایاجاتا ہے کہ رمیش جارکی ہولی ڈی کے شیوکمار سے اپنے اختلافات کے سبب میٹنگ سے غیر حاضر رہے۔ پچھلے لوک سبھا انتخابات میں کانگریس امیدوار کے حق میں کام کرنے کی بجائے انتخابی عمل سے اپنے آپ کو دور رکھنے والے رمیش جارکی ہولی ان دنوں کانگریس قیادت سے کافی ناراض ہیں، خاص طور پر ڈی کے شیوکمار اور ان کے درمیان اختلافات عروج پر ہیں۔ ان سیاسی اختلافات کا اثر آج ضلعی انتظامیہ کی طرف سے طلب کی گئی میٹنگ میں بھی نظر آیا۔ ڈی کے شیوکمار ان دنوں شمالی کرناٹک میں آب پاشی سے متعلق عوام کو در پیش مسائل اور مختلف پراجکٹوں کی تکمیل کا جائزہ لینے کے لئے دورے پر ہیں۔ اس دورے کے مرحلے میں انہوں نے بلگاوی میں ضلعی انتظامیہ اور منتخب نمائندوں کے ساتھ آب پاشی منصوبوں پر میٹنگ کی، میٹنگ میں وزیر جنگلات ستیش جارکی ہولی، ایک اور وزیر آر بی تما پور، رکن پارلیمان گدی گوڈر، پرکاش ہکیری، سریمنت پاٹل، سدھو ساؤدی، رکن کونسل مہانتیش کوجلگی، رکن اسمبلی مہانتیش کمٹگی مٹھ، ایس آر پاٹل اور دیگر نے شرکت کی۔میٹنگ سے قبل اخباری نمائندوں سے مخاطب ہوکر ڈی کے شیوکمار نے کہا کہ دریائے کرشنا سوکھ رہی ہے یہاں پر پانی کی شدید ضرورت محسوس کی جارہی ہے، حکومت مہاراشٹرا سے گزارش کی گئی ہے کہ اس ندی میں پانی بہایا جائے، لیکن اس میں غیر ضروری تاخیر کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہاکہ مہادائی اور کلسابنڈوری پراجکٹوں کے بارے میں بھی میٹنگ میں تفصیلی بات چیت ہوئی۔ 


Share: