شیموگہ،22؍فروری (ایس او نیوز) شیموگہ میں حالات زیر قابو ہیں مگر احتیاطی اقدامات کے طور پر اگلے مزید دو دنوں کے لئے کرفیو میں توسیع دی گئی ہے۔ اس موقع پر ایسٹرن رینج کے ڈی آئی جی مسٹر کے تیاگراجن نے بتایا کہ شموگہ میں حالات نارمل ہورہے ہیں، ہم نے پولس کا مناسب بندوبست کیا ہے جس میں کرناٹک ریزرو پولس فورس کی 20 پلیٹون سمیت ریزرو آرم فورس کو بھی تعینات کیا ہے، ہم نے کل یہاں پولس کا فلیگ مارچ بھی کرایا تاکہ عوام کو اطمینان دلاسکیں کہ پولس مستعدی سے یہاں کے حالات پر نظر رکھی ہے۔
اس سلسلے ميں ڈپٹی کمشنر نے اطلاع دیتے ہوئے بتایا کہ اسکول وکالجوں کو اگلے دودنوں تک مزید تعطئیل رہے گی۔ مزید بتایا کہ اس وقت شہر کے حالات پر امن ہیں، ٹیپو نگر اور گوپال میں سواریوں کو آگ لگائے جانے کے معاملات تنگا نگر پولیس تھانہ میں درج کئے گئے ہیں ۔ جبکہ ہوم منسٹر ارگا جنانیندرا نے بتایا کہ بجرنگ دل کارکن ہرشا کے قتل کے کیس میں کل تک چھ لوگوں کو گرفتار کیا گیا تھا، آج مزید دو لوگوں کی گرفتاریاں عمل میں آئی ہیں، اس طرح جملہ گرفتار شدگان کی تعداد آٹھ ہوگئی ہے۔
بتاتے چلیں کہ اتوار شام کو یہاں کے ایک 26 سالہ نوجوان جس کی شناخت بجرنگ دل کارکن ہرشا کے طور پر کی گئی تھی، چار پانچ لوگوں نے دھاردار آلات سے حملہ کرتے ہوئے اس کا بے رحمی کے ساتھ قتل کردیا تھا، جس کے فوری بعد یہاں امتناعی احکامات کے تحت دفعہ 144 نافذ کیا گیا تھا، لیکن امتناعی احکامات کی دھجیاں اُڑاتے ہوئے اگلے روز یعنی پیر کو ہرشا کی نعش کو آخری رسومات کے لئے لے جانے کے دوران ہزاروں لوگوں پر مشتمل ایک ریلی نکالی گئی جس میں ریاست کے وزیر ایشورپا نے بھی شرکت کی ، بتایا جاتا ہے کہ اس دوران ایشورپا نے ریلی میں شامل لوگوں کو اشتعال دلانے کی کوشش کی ، جس کے دوران ریلی میں شامل کچھ لوگوں نے جگہ جگہ پتھراو کیا اور نہ صرف دکانوں اور مکانوں میں توڑ پھوڑ مچائی بلکہ کئی سواریوں کو بھی نذرآتش کردیا۔ جس کے ساتھ ہی شموگہ میں تشدد بھڑک اُٹھا۔
فی الحال بجرنگ دل کارکن کے قتل کے الزام میں آٹھ لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے، مگر امتناعی احکامات کی خلاف ورزی کرنے، توڑ پھوڑ کرنے اور آتشزنی وغیرہ کرنے کے معاملوں میں کسی بھی طرح کی گرفتاری کی کوئی خبر نہیں ہے۔