ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / شہریت ترمیمی قانون کے خلاف احتجاج کے دوران مہلوکین کی پوسٹ مارٹم رپورٹ جاری کرنے میں تذبذب ؛ کیا چھپا رہی ہے یوپی پولیس، عوام کا سوال

شہریت ترمیمی قانون کے خلاف احتجاج کے دوران مہلوکین کی پوسٹ مارٹم رپورٹ جاری کرنے میں تذبذب ؛ کیا چھپا رہی ہے یوپی پولیس، عوام کا سوال

Sat, 04 Jan 2020 20:51:03    S.O. News Service

لکھنؤ،4/جنوری(ایس او نیوز/ایجنسی) شہریت ترمیمی قانون کے خلاف احتجاج کے دوران شہید  ہونے والے عمران کی پوسٹ مارٹم رپورٹ کے لئے اُس کا بھائی محسن دو ہفتوں سے در در بھٹکنے کی اطلاع موصول ہوئی ہے اور بتایاجارہا ہے کہ  اسے ہر جگہ سے ایک ہی جواب ملتا ہے، ’’کل آو! ابھی  رپورٹ نہیں آئی ...‘‘

اخبارنویسوں سے فون پر گفتگو کرتے ہوئے محسن نے بتایا کہ ’’مجھے سمجھ میں نہیں آ رہا  ہے کہ پولیس پوسٹ مارٹم رپورٹ کیوں نہیں دے رہی ہے۔ کیوں اتنا وقت لگایا جا رہا ہے اور کس کے لئے اتنی تاخیر ہورہی ہے‘‘

ذرائع کی مانیں تو محسن اکیلا نہیں ہے جو اس طرح کی پریشانیوں  میں بھٹک رہا ہے۔ 20 دسمبر کو میرٹھ میں شہریت ترمیمی قانون کے خلاف احتجاج کے دوران ہونے والے تشدد میں چار نوجوان شہید  ہوئے تھے، ان سبھی کے اہل خانہ کا بھی کہنا ہے کہ پولیس جان بوجھ کر پوسٹ مارٹم رپورٹ دینے میں آناکانی کر رہی ہے۔

اسی تشدد میں آصف کی بھی موت ہوئی تھی۔ اس کے چچا نوشاد لگاتار پوسٹ مارٹم رپورٹ کے لئے میرٹھ کے لیساڑی گیٹ پولیس اسٹیشن کے چکر لگا رہے ہیں۔ اُن کا  بھی یہی کہنا ہے کہ بار بار ضلعی اسپتال کا چکر لگانے کے باوجود رپورٹ نہیں دی جارہی ہے، وہ کہتے ہیں کہ ’’ان کا واحد جواب یہ ہے کہ ضلع اسپتال سے پوسٹ مارٹم رپورٹ ابھی تک نہیں آئی ہے۔‘‘ نوشاد نے بتایا کہ اس سلسلے میں انہوں نے مقامی رہنماؤں سے بھی اپیل کی لیکن کوئی فائدہ نہیں ہوا۔

کانگریس کے ایک مقامی رہنما زاہد انصاری نے بتایا کہ انہوں نے متاثرین کے اہل خانہ سے ملاقات کی ہے۔ ان کے بقول، ’’یہ خاندان خوف زدہ ہیں۔ زیادہ تر لوگ تھانے میں جانے سے ڈرتے ہیں۔ انہیں خدشہ ہے کہ انہیں بھی کسی جھوٹے مقدمے میں گرفتار نہ کر لیا جائے۔ لوگ اکیلے تو بالکل بھی تھانے میں نہیں جاتے۔ وہ گروپ کی شکل میں جاتے ہیں اور بعض اوقات پورا محلہ ان کے ساتھ ہوتا ہے تاکہ تنہا کسی کے خلاف مقدمہ نہ لکھ دیا جائے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ لوگ 20 دسمبر کو ہونے والے تشدد پر بات کرنے سے بھی ہچکچاتے ہیں کیونکہ انہیں شبہ ہے کہ پولیس کے ’جاسوس ‘عام لوگوں کی طرح ان کے درمیان آ سکتے ہیں!‘‘

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ پولیس دراصل پوسٹ مارٹم رپورٹ دینے میں ہچکچاہٹ محسوس کر رہی ہے کیونکہ تمام اموات گولیوں کے زخموں کی وجہ سے ہوئی ہیں۔ ایسی صورتحال میں لوگ پوسٹ مارٹم رپورٹ کی بنیاد پر پولیس کو عدالت میں گھسیٹ سکتے ہیں۔

واضح رہے کہ اتر پردیش کے ڈائریکٹر جنرل آف پولیس اب بھی اس بیان پر قائم ہیں کہ پولیس فائرنگ میں کوئی بھی ہلاک نہیں ہوا، حالانکہ بجنور اور میرٹھ کے پولیس کپتان یہ اعتراف کر چکے ہیں کہ پولیس فائرنگ میں دو افراد کی موت ہوئی ہے۔ دونوں کپتانوں کا دعویٰ ہے کہ پولیس نے اپنے  دفاع میں فائرنگ کی۔

اس تعلق سے گفتگو  کرتے ہوئے انیس احمد نامی وکیل نے بتایا کہ  ’’حقیقت کو چھپانے کی کوششیں ہو رہی ہیں لیکن ایک دن سچ کو سامنے آنا ہے۔ دیکھتے ہیں کہ پولیس پوسٹ مارٹم رپورٹ کو کب تک دبایا جاتا ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ پوسٹ مارٹم رپورٹ پولیس کے جھوٹ کا پردہ فاش کر دے گی۔‘‘ انیس احمد جمعیۃ علمائے ہند کے ممبر بھی ہیں اور شہریت ترمیمی قانون کے خلاف قانونی طور پر مظاہرین کی مدد کر رہے ہیں۔

دوسری طرف، پولیس افسر پرشانت کمار کا کہنا ہے  کہ پولیس اپنی طرف سے تاخیر نہیں کر رہی ہے۔ ان کے مطابق   پوسٹ مارٹم رپورٹ آنے کا عمل جاری ہے۔ متاثرہ خاندانوں کو بھی اس عمل کو سمجھنا چاہئے۔ اگر کوئی پریشانی ہو تو وہ ایس ایس پی کے پاس جا سکتے ہیں۔


Share: