کاروار3؍جولائی (ایس او نیوز)محکمہ پولیس کی جانب سے فراہم کردہ اعداد وشمار کے مطابق ضلع شمالی کینرا کے مختلف پولیس تھانوں میں امسال جنوری سے مئی تک عصمت دری سے متعلقہ 14معاملات درج کیے گئے ہیں۔ان 14معاملات میں بچوں اورنابالغوں کے ساتھ جنسی ہراسانی کے لئے پوکسو ایکٹ کے تحت درج معاملات بھی شامل ہیں۔
گزشتہ تین برسوں کے درمیان پیش آنے والے عصمت دری کے واقعات کے سلسلے میں محکمہ پولیس نے جو اعداد وشمار پیش کیے ہیں اس کا جائزہ لینے پر یہ بات سامنے آتی ہے کہ سب سے زیادہ معاملات سرسی میں داخل کیے گئے ہیں۔لیکن امسال کے پانچ مہینوں کی رپورٹ دیکھیں تو اس میں انکولہ سر فہرست ہے جہاں 4معاملات درج کیے گئے ہیں۔البتہ ضلع میں کاروار، ہوناور، منڈگوڈ، جوئیڈا اور ڈانڈیلی میں عصمت دری کا امسال کوئی بھی معاملہ درج نہیں ہوا ہے۔
محکمہ پولیس کے مطابق گزشتہ تین برسوں میں تعلقہ جاتی سطح پرپولیس کے پاس درج ہونے والے عصمت دری کے معاملات کچھ اس طرح ہیں:
| تعلقہ | 2016 | 2017 | 2018 |
| کاروار | 03 | 02 | 00 |
| انکولہ | 03 | 00 | 04 |
| کمٹہ | 04 | 03 | 01 |
| ہوناور | 02 | 03 | 00 |
| بھٹکل | 00 | 01 | 01 |
| سرسی | 06 | 11 | 03 |
| سداپور | 02 | 00 | 01 |
| یلاپور | 03 | 03 | 02 |
| منڈگوڈ | 03 | 01 | 00 |
| ہلیال | 01 | 01 | 02 |
| جوئیڈا | 01 | 01 | 00 |
| ڈانڈیلی | 01 | 01 | 00 |
| جملہ | 29 | 27 | 14 |
پولیس کا کہنا ہے کہ جنسی ہراسانی اور عصمت دری کے واقعات اکثر وبیشتر اس طرح پیش آتے ہیں کہ کوئی کام پورا کرنے کا وعدہ کرتے ہوئے نوجوان لڑکیوں اور خواتین کو کہیں لے جاکر ان کی آبروریزی کی جاتی ہے۔یا پھر کچھ نوجوان شادی کا وعدہ کرکے لڑکیوں کا اعتماد حاصل کرتے ہیں اور پھر ان کے ساتھ جنسی تعلقات بنانے کے بعد انہیں دھوکہ دیتے ہیں اور شادی سے مکر جاتے ہیں۔پولیس افسران کا یہ بھی کہنا ہے کہ زیادہ ترجنسی ہراسانی معاملات میں خواتین او ر لڑکیوں کے رشتے دار ہی ملوث پائے جاتے ہیں۔غریب او ر بے سہارا خاندان والے یا پھر سماج میں اپنی بے عزتی کا خیال کرکے بہت سارے معاملات پولیس کے علم میں لائے ہی نہیں جاتے ۔شکایت درج نہ ہونے کی وجہ سے اس کے اعداد وشمار سامنے نہیں آتے۔پولیس سپرنٹنڈنٹ ونائیک پاٹل کے بیان کے مطابق جنسی تعلقات کے کئی واقعات ایسے بھی ہوتے ہیں جہاں پر دونوں اپنی مرضی سے یہ کام انجام دیتے ہیں اور بعد میں لڑکی یا خاتون کی طرف سے اسے عصمت دری کامعاملہ بناکر پولیس کے پاس شکایت درج کروائی جاتی ہے۔
عصمت دری کے ملزمین کو سزا دلانے کے بارے میں پولیس ایس پی نے بتایا کہ پوکسو قانون کے تحت درج معاملات میں تیزرفتاری سے تفتیش ہوتی ہے۔ گزشتہ سال دو معاملات میں ایک مجرم کو دس سال اور دوسرے کو9سال کی سزا ہوئی ہے۔