کاروار:یکم جولائی (ایس اؤنیوز)صحافت عوام کی خاطر کی جانے والی حقیقی جدوجہد ہے ، سچائی کی تلاش کرتے ہوئے رپورٹنگ کرنا خطرے سے خالی نہیں ہے لیکن تفتیشی صحافت یا جاسوسی صحافت زندگی کو تازگی بخشتی ہے ، ہر ہفتہ پیش ہونے والی کور اسٹوری کی جانچ رپورٹنگ سے مجھے ایک قوت ملتی ہے، اگر آپ عوام کو سچائی کی تصویر دکھانا چاہتے ہیں انہیں سچ سے آشنا کرانا چاہتے ہیں تو اپنی خود کی زندگی کی بعض ضروریات کو قربان کرکے سچائی کی تلاش کرنی ہوگی ، اور یہ سب عوام کی بھلائی اور مفاد کی خاطر ہونا چاہئے۔ ان خیالات کااظہار ہرمن موگلنگ ایوارڈیافتہ سورنا نیوز چینل کور اسٹوری کی ایڈیٹر وجئے لکشمی شبرور نے کیا۔
وہ یہاں کرناٹکا جرنلسٹ یونین اور محکمہ نشرو اشاعت کے اشتراک سے کاروار میں منعقدہ پروگرام میں ہرمن موگلنگ ایوارڈ سے اعزاز پانے کے بعد خطاب کررہی تھیں۔ وجئے لکشمی نے اس موقع پر پرمغز خطاب کرتے ہوئے صحافت کے مختلف پہلوؤں کو اجاگر کیا انہوں نے بتایا کہ آج عوام سچ کو بھی شبہ کی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں، ہر جگہ ہر طرف ہرشعبہ رشوت خوری اور بدعنوانی سے بھراپڑاہے، جو اخبارنویس سچ کی تلاش میں نکلتا ہے تو اس کو بھی شک و شبہ کی نگاہ سے دیکھا جارہاہے ، کچھ اخبار نویس سیاسی لالچ میں مبتلا ہونے سے پورے میڈیا کے شعبہ پر عوام شک کی نگاہ سے دیکھنے لگے ہیں۔ آج صحافت سرمایہ دار اور سیاسی پارٹیوں کی پکڑ میں ہے، ایماندارانہ رپورٹنگ اور سچ بولنا بڑا کٹھن ہوگیا ہے، ایسے حالات آخر کیوں پیدا ہوئے؟ میڈیا والے لالچی کیوں بنے؟ ایسے سوالا ت کا جواب ڈھونڈھنے کے لئے ہمیں خود احتساب کرنا ہوگا اور یہ کام صرف ایماندار لوگ ہی کرسکتےہیں۔ انہوں نے آخر میں رپورٹر سمیت تمام عوام سے اپیل کی کہ اگر وہ سچ کی تلاش کرتے ہوئے عوام کے مسائل پر توجہ دے کر انہیں حل کرنا چاہتے ہیں تو صحافت میں قدم رکھیں ورنہ بہتر ہے وہ اپنے کام میں رہیں۔
ایک موقع پر وجئے لکشمی شبرور نے عوام کی طرف سے پوچھے گئے سوالا ت کاجواب دیتے ہوئےاپنے پاکستانی دورے کے متعلق کہاکہ میرا پاکستان کا سفر کبھی بھلایا نہیں جاسکے گا، وہ ایک ایسا تجربہ ہے جسے میں کبھی بھول نہیں سکتی ، انہوں نے بتایا کہ وہاں کے عوام کے جذبات بھی ہماری طرح ہی ہیں، وہ بھی ہماری طرح دکھ سکھ میں مبتلا ہیں، وہ بھی پیار ومحبت جانتے ہیں، سیاسی مفاد کی خاطر حدیں کھڑی کردی گئی ہیں، لیکن وہاں کے عوام دہشت گردی کا خوف سب سے زیادہ محسوس کرتے ہیں۔
کمٹہ کی رکن اسمبلی شاردا شٹی نے پروگرام کا افتتاح کرنےکے بعد کہا کہ صحافت میں مشغول افراد اخلاقی حدود کی پابندی کرتےہوئے سچائی پر رپورٹ پیش کریں تاکہ عوام کا اعتماد باقی رہے ۔ اسی طرح ترقیاتی کاموں کے لئے صحافی تعائون کریں۔ صنعت کار روپالی نائک نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ صحافت جب عوامی مسائل کو پیش کرتی ہے تو وہ اپنا اصل کام کرتی ہے ، وجئے لکشمی جیسی نوجوان لڑکیاں اس کی ایک مثال ہیں۔ انوکلسا کالج کےپرنسپال شیوانند نایک اور ونایک گنگولی بھی اسٹیج پر موجود تھے۔ کنڑا ساہتیہ پریشد کے صدر ناگراج ہرپنہلی نے صحافت کی تاریخ اور موجودہ دور میں صحافت پر اپنامقالہ پیش کیا۔ جرنلسٹ یونین کے صدر کڈتوکا منجوناتھ نے افتتاحی کلمات پیش کرتے ہوئے ہرمن موگلنگ ایوارڈ کی ضرورت اور اس کو پیش کرنے کی غرض وغایت بیان کی۔