نئی دہلی، 30 جنوری(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)پیر کے روز گرین پیس انڈیا کی طرف سے ملک کے 280 شہروں پر سالانہ رپورٹ ایروپولکس ۔2 جاری کی گئی۔ گرین پیس انڈیا کی رپورٹ کے مطابق ہندوستان کا ایک بھی شہر ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او) کے معیار کو پورا نہیں کرپاتا۔ اتناہی نہیں 80 فیصد بھی شہر مرکزی آلودگی کنٹرول بورڈ کے ذریعہ جاری کردہ قومی فضائی معیارکو پورا نہیں کرپاتے۔رپورٹ کے مطابق تقریبا 55 کروڑ لوگ ایسی جگہوں رہتے ہیں جہاں PM10 کی سطح قومی معیار سے کہیں زیادہ ہے۔وہیں ان میں سے 18 کروڑلوگ وسطی آلودگی کنٹرول بورڈ کے ذریعہug\m3 60سے دوگنازیادہ آلودگی کی سطح والے علاقے میں رہتے ہیں۔ بتادیں کہ دہلی سب سے زیادہ آلودہ شہروں کی فہرست میں نمبر ایک پر ہے۔وہیں وزیراعظم مودی کا پارلیمانی حلقہ بنارس 6نمبر پر ہے، غازی آباد7 ویں نمبر پر، کانپور 17 ویں نمبرپر ہے۔گرین پیس کے سینئر کمانڈر سنیل دہیا نے کہا کہ جب ہم ہندوستان میں فضائی آلودگی کے بارے میں بات کرتے ہیں تو سب سے پہلے توجہ دہلی پر جاتی ہے لیکن بہت سارے شہر ہیں جو فضائی آلودگی کے مقابلے میں بمشکل ہی بہتر ہیں، اگر اوسط PM10 کی سطح پر رینکنگ دیکھیں تو دہلی 290 ug / m3 کے ساتھ نمبرایک پر ہے۔ وہیں فرید آباد، بھواڑی، پٹنہ، دہرادون بالترتیب 272، 262، 261، 238 290 ug / m3 کے ساتھ دہلی سے تھوڑے ہی پیچھے ہیں۔ڈبلیو ایچ او گلوبل شہری محیط فضائی آلودگی ڈیٹا بیس 2014 کے مطابق 20 سے زیادہ آلودگی والے شہروں میں سے 13 ہندوستان سے ہیں۔رپورٹ کے مطابق، ملک میں 5.9 کروڑ بچے جن کی عمر 5 سال سے کم ہے، ایسی جگہوں پر رہتے ہیں، جہاں سی پی سی بی کی طرف سے مقرر معیار سے PM10 کی سطح زیادہ ہے اورفضائی آلودگی کی زد میں ہے۔مرکزی آلودگی کنٹرول بورڈ کے سائنس داں اور ترجمان ڈاکٹر ڈی ساہا نے کہا کہ 87ا سٹیشنوں کو ہوا کے معیار انڈیکس کے ساتھ ضم کر دیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس سال کے آخر تک ہم 221 اسٹیشن بنانے کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔ اس منصوبہ کا مقصد پہلے سب سے زیادہ آبادی والے شہروں کو نشان زد کرنا ہے۔ اس کے بعد لاکھوں سے زیادہ آبادی والے شہر اور ریاست کی دارالحکومتوں کے ساتھ شہروں کی مشکلات کوہدف بناناہے۔