لکھنؤ26دسمبر(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)اتر پردیش کی راجدھانی لکھنؤ واقع لوک بھون میں سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی کی 21 میٹر بلند مجسمہ لگے گا۔ یہ اعلان ریاست کے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ نے آج واجپئی کی 95 ویں جینتی کے موقع پر منعقد پروگرام میں یہ بات کہی۔
انہوں نے کہاکہ اٹل بہاری واجپئی کا اتر پردیش سے پناہ تعلق تھا۔عوامی زندگی کا آغاز انہوں نے اتر پردیش کے بلرام پور ضلع سے کی اور پانچ بار لکھنؤ سے ممبر پارلیمنٹ رہے۔یوگی نے کہاکہ اٹل بہاری واجپئی گڈ گورننس کی بنیاد تھے۔پنڈت دین دیال اپادھیائے اور شیاما پرساد مکھرجی سے انہوں نے سیاست کے گُر سیکھے اور سیاست میں یقین کی علامت بنے۔وزیر اعلی نے کہا کہ اٹل جی کو کئی عہدوں پر رہتے ہوئے جو اعزاز حاصل ہوا وہ حیرت انگیز ہے۔وہ طویل عرصے تک ذمہ دار کے طور پر کام کرتے رہے جو ہر عوامی نمائندے کیلئے مثال ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اٹل جی کی یاد میں کئی منصوبوں کا افتتاح کیا گیا ہے۔گورنر رام نائک نے کہاکہ میں ایسے تمام عظیم افراد کو اپنی طرف سے اور ریاست کی عوام کی جانب سے سلام کرتا ہوں۔ نائک نے کہا کہ واجپئی سیاست کے سپر اسٹار اور ملک کے مقبول لیڈر تھے۔پارٹی کے لوگ ان کی تعریف کریں تویہ فطری بات ہے مگر اٹل جی کی تعریف اپوزیشن پارٹی کے رہنما بھی کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اٹل جی میں سب کو ساتھ لے کر چلنے کی خاصیت تھی اور انہوں نے ملک کو بلندیوں پر پہنچایا۔
انہوں نے بتایا کہ جب اٹل جی بھارتیہ جنتا پارٹی کے قومی صدر تھے تو وہ ممبئی بی جے پی کے صدر تھے۔1980 میں ممبئی میں منعقد پہلے پارٹی اجلاس میں جسٹس چھاگلا نے اپنے خطاب میں کہا تھاکہ میں منی انڈیا دیکھ رہا ہوں اور میرے دائیں ہاتھ پر ملک کے مستقبل کے وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی بیٹھے ہیں۔آگے جاکر جسٹس چھاگلا کی پیشن گوئی درست ثابت ہوئی اور اٹل بہاری واجپئی ملک کے وزیر اعظم بنے۔مرکزی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے کہاہے کہ اٹل جی ہندوستان کے واحدشخص تھے۔عوامی زندگی میں رہتے ہوئے طرز عمل اور طریقہ کار اٹل جی سے سیکھنے کی ضرورت ہے۔