ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / لوک سبھا انتخابات 2019: دہلی میں کانگریس اور آپ کے درمیان نہیں ہو گا اتحاد: ذرائع

لوک سبھا انتخابات 2019: دہلی میں کانگریس اور آپ کے درمیان نہیں ہو گا اتحاد: ذرائع

Wed, 10 Apr 2019 23:39:56    S.O. News Service

نئی دہلی ،10؍اپریل (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) دہلی میں کانگریس اور عام آدمی پارٹی کے درمیان اتحاد نہیں ہو گا۔ذرائع کے مطابق عام آدمی پارٹی دہلی میں کانگریس کو تین سیٹ دے رہی تھی، جس کے بدلے ہریانہ میں تین سیٹ مانگ رہی تھی۔لیکن اس پر رضامندی نہیں ہوئی۔بتایا جا رہا ہے کہ ہریانہ کانگریس نے عام آدمی پارٹی کو ریاست میں ایک بھی سیٹ دینے سے انکار کر دیا۔جس کی وجہ سے عام آدمی پارٹی نے بھی کانگریس سے دوری بنا لی ہے۔ذرائع کے مطابق منگل کی شام کانگریس کی اعلی سطحی اجلاس میں اتحاد کا امکان ختم کرکے دہلی کے تمام سابق ارکان پارلیمنٹ کو الیکشن لڑنے کے لئے تیار رہنے کو کہا گیا ہے۔جنوبی دہلی سے سابق ایم پی رمیش کمار، نئی دہلی سے اجے ماکن، مشرقی دہلی سے سندیپ دیکشت یا شیلا دکشت، مغربی دہلی سے مہابل مشرا، چاندنی چوک سے کپل سبل، شمالی مشرقی دہلی سے جے پرکاش اگروال اور شمالی مشرقی دہلی کی کانگریسی رہنما کرشنا تیرتھ کے بی جے پی میں جانے کی وجہ سے یہاں سے راجکمار چوہان لڑ سکتے ہیں۔وہیں سکھ فسادات میں سزا کاٹ رہے سجن کمار کے بھائی سابق ایم پی رمیش کمار اپنے بھتیجے جگپرویش کا نام آگے کیا تھا۔لیکن سجن کمار کے بیٹے پر اتفاق رائے نہیں ہوئی ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ جمعرات کو کانگریس کی انتخابات کمیٹی کی آخری اجلاس میں دہلی میں ٹکٹ کا فیصلہ ہو سکتا ہے۔جس کے بعد کبھی بھی کانگریس کے امیدواروں کی فہرست آ سکتی ہے۔سال 2014 لوک سبھا انتخابات کے اعدادوشمار کو دیکھیں تو دہلی میں بی جے پی نے 46.63 فیصد ووٹوں کے ساتھ ساتوں سیٹوں پر قبضہ کر لیا تھا۔وہیں اگر عام آدمی پارٹی کے ووٹ فیصد دیکھیں تو وہ 33.08 فیصد کے ساتھ دوسرے نمبر پر تھی۔کانگریس کو 42.01 فیصد ووٹوں کا نقصان ہوا تھا، اس کا ڈیٹا 15.22 فیصد ہی پہنچ سکا۔اگر کانگریس اور عام آدمی پارٹی کے ووٹ فیصد کو جوڑا جائے تو یہ 48 فیصد سے زیادہ کیا جا رہا ہے، جو کہ بی جے پی سے زیادہ ہے۔ایسے میں دونوں پارٹیوں کا سوچنا ہے کہ ساتھ الیکشن لڑنے سے دونوں کو فائدہ ہو گا اور بی جے پی کو شکست دینے میں مددملے گی۔


Share: