لکھنؤ،30؍مارچ( ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا ) مرکزی سماجی انصاف کے وزیر رام داس اٹھاولے نے بی ایس پی سربراہ مایاوتی کو بی جے پی قیادت قومی جمہوری اتحاد (این ڈی اے) میں شامل ہونے کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ اگر مایاوتی کو دلتوں کی واقعی میں فکر ہے تو انہیں این ڈی اے کا حصہ بن جاناچاہئے۔اتر پردیش کی تمام 80لوک سبھا سیٹیں جیتنے کے بی جے پی لیڈروں کے تمام دعووں کے برعکس اٹھاولے نے مانا کہ سماج وادی پارٹی (ایس پی)اور بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی)کے اتحاد سے پارٹی کو 20 سے 25 سیٹوں کا نقصان ہوگا۔مگر اس سے آئندہ لوک سبھا انتخابات کے بعد این ڈی اے کی حکومت بننے کے امکانات پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ریپبلکن پارٹی آف انڈیا (آر پی آئی)کے صدر اٹھاولے نے یہاں پریس کانفرنس میں کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ مایاوتی این ڈی اے میں شامل ہو جائیں۔بی ایس پی سربراہ اگر دلتوں کا مفاد چاہتی ہیں تو انہیں این ڈی اے میں آ جانا چاہئے۔ انہوں نے کہاکہ تب میں، مایاوتی جی اور رام ولاس پاسوان جی مل مرکزی حکومت سے دلتوں کی فلاح و بہبود کے لیے زیادہ فنڈز لے سکیں گے۔اٹھاولے نے کہا کہ بی ایس پی کی مدد سے گورکھپور اورپھول پور لوک سبھا ضمنی انتخاب جیتنے والی سماجوادی پارٹی نے حالیہ راجیہ سبھا انتخابات میں بی ایس پی کے ساتھ دھوکہ کیا، جس کی وجہ سے ان کا امیدوار ہار گیا۔آر پی آئی صدر نے مانا کہ اتر پردیش میں سماجوادی پارٹی اور بی ایس پی کے اتحاد سے لوک سبھا انتخابات میں بی جے پی کو نقصان ہوگا۔اتحاد کو 20 سے 25 سیٹیں ملیں گی، جبکہ بی جے پی کو 50 سے زائد سیٹیں حاصل ہوں گی۔مگر اس سے مرکز میں بی جے پی کی دوبارہ حکومت بننے کے امکانات پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کا مقابلہ نہ تو کانگریس صدر راہل گاندھی کر سکتے ہیں اور نہ ہی ایس پی سپریمو اکھلیش یادو اور بی ایس پی سربراہ مایاوتی۔انہوں نے کہا کہ ملک میں دلتوں پر ظلم اب بھی ہو رہے ہیں، مگر اس کے لیے مرکز کی بی جے پی زیر قیادت حکومت ذمہ دار نہیں ہے۔کانگریس، سماجوادی پارٹی اور بی ایس پی کے حکومت میں بھی دلتوں پر ظلم ہوتے تھے۔کانگریس کی حکومت میں بھی گؤرکشہ کے نام پر دلت کوہراساں کرنے کے واقعات ہوئے۔اس مسئلے کو سیاست کے چشمہ سے نہیں دیکھا جانا چاہئے۔دلتوں پر ظلم روکنے کے لئے دلت ظلم مخالف قانون کو اور مضبوط کرنا چاہئے۔