لکھنؤ،02؍اپریل (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) اتر پردیش میں مہاگٹھ بندھن کی حمایت کا اعلان کرنے کے صرف تین دن بعد اس سے ناطہ توڑ لینے والی نشاد پارٹی نے سماج وادی پارٹی (ایس پی) صدر اکھلیش یادو پر حملہ بولا ہے۔نشاد پارٹی نے الزام لگایا کہ اکھلیش یادو اتحاد کی اپنی ساتھی بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) سربراہ مایاوتی کے دباؤ میں کام کر رہے ہیں۔نشاد پارٹی کے بانی صدر سنجے نشاد نے منگل کو کہاکہ اکھلیش یادو مایاوتی کے دباؤ میں کام کر رہے ہیں۔یہی وجہ تھی کہ گورکھپور اور مہاراج گنج نشستیں دینے کا بھروسہ دلانے کے باوجود ایس پی صدر نے میرے ساتھ دھوکہ کیا۔اکھلیش نے بعد میں مجھے دو کے بجائے ایک نشست دیتے ہوئے ایس پی کے انتخابات نشان پر لڑنے کو کہا۔یہ مجھے منظور نہیں تھا۔میں اپنی پارٹی کے نشان پر الیکشن لڑنا چاہتا تھا۔مگر ایسا نہیں ہو سکا۔ مجھے اکھلیش اور مایاوتی دونوں نے ہی ٹھگا۔لہٰذ مجھے الگ ہونے کا فیصلہ لینا پڑا۔انہوں نے کہا کہ ایس پی کے نشان پر نشاد پارٹی کے امیدوار کے انتخاب لڑنے کی بات سے پارٹی کے کارکنوں میں عدم اطمینان تھا اور انہوں نے پارٹی چھوڑنا شروع کر دیا تھا۔معلوم ہو کہ نشاد پارٹی نے ایس پی۔بی ایس پی۔آر ایل ڈی مہاگٹھ بندھن کو حمایت دینے کا اعلان کرنے کے تین دن بعد 29 مارچ کو اچانک اپنا ارادہ بدلتے ہوئے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ سے ملاقات کی تھی۔نشاد پارٹی صدر سنجے نشاد کے بیٹے پروین نشاد نے گزشتہ سال گورکھپور لوک سبھا ضمنی انتخاب میں ایس پی امیدوار کے طور پر کامیابی حاصل کی تھی۔اس ضمنی انتخاب میں بی ایس پی نے بھی نشاد کی حمایت کی تھی۔بی جے پی سے سیٹوں کی تقسیم کو لے کر جاری بات چیت کا ذکر کئے جانے پر سنجے نشاد نے کہاکہ ہم نے بی جے پی قیادت سے اس بارے میں کہا ہے اور ہم اس کے صدر امت شاہ کے مثبت جواب کا انتظار کر رہے ہیں۔ہم نے اس کے لئے کوئی سودے بازی نہیں کی ہے۔