بھوپال،3؍جنوری(ایس او نیوز؍ایجنیس) مدھیہ پردیش میں رام مندر کیلئے چندہ اکھٹا کرنے کے نام پر نکالی جارہی ریلیوں پر پتھراؤ کے الزامات کے بیچ وزیراعلیٰ شیوراج سنگھ چوہان نے خاطیوں کے خلاف سخت کارروائی کی دھمکی دی ہے۔
اہم بات یہ ہے کہ اندور اور اُجین میں نکالی گئی ان ریلیوں کے دوران شرپسندی اور مسلم محلوں میں اشتعال انگیز نعرے بازی نیز حملوں کے الزامات بھی ہیں مگر پولیس پراکثر مقامات پر یکطرفہ کارروائی کا الزام ہے۔ اندور میں ریلی پر جس گھر سے پتھراؤ کیاگیا، میونسپل انتظامیہ نے دوسرے دن اس گھر کو ہی زمیں بوس کردیا مگر اس دعوے کے ساتھ کہ انہدام کا تشدد کے واقعہ سے کوئی لینا دینا نہیں ہے بلکہ یہ کارروائی تو غیر قانونی تعمیر کے خلاف ہے۔ تشدد کی وارداتوں کے تعلق سے ایک سوال کے جواب میں شیوراج سنگھ چوہان نے کہا ہے کہ ’’شرپسند کوئی بھی ہو،ان کے خلاف قانون اپنا کام کرےگا۔ جولوگ بدامنی پھیلارہے ہیں،ان سے سختی سے نمٹا جائےگا۔‘‘ چوہان کے مطابق ’’ہمیں اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ مدھیہ پردیش امن کا جزیرہ بنارہے۔‘‘
اس بیچ پولیس نے 100؍ سے زائد افراد کے خلاف کیس درج کیا ہے جن میں سے 28؍ کی گرفتاری عمل میں آئی ہے۔ اقلیتی طبقے سے گرفتار ہونے والوں کے خلاف پولیس نے قومی سلامتی ایکٹ جیسے سخت قانون کے تحت کارروائی کی ہے۔ دوسری طرف مسجد کے باہر ہنومان چالیسا پڑھنے، مسجد پر چڑھ کر مینار کونقصان پہنچانے اور سبزپرچم ہٹا کر بھگوا جھنڈا لہرانے والوں کی بھی پولیس نے شناخت کرلینے کا دعویٰ کیا ہے۔