بھٹکل:22/ اکتوبر (ایس اؤنیوز)23اکتوبر 2010کو مرڈیشور کے ہیرے دومی میں ہوا یمونا نائک قتل معاملہ اب ہائی کورٹ جاپہنچاہے۔ ملزم وینکٹیش ہری کنتر کو الزام سے بری کرتےہوئے ضلعی عدالت کے فیصلے کے خلاف مقتولہ کے والد ناگپا ماستپا نائک نے عدالتِ عالیہ کا دروازہ کھٹکھٹایا ہے۔
شکایت کردہ کی طرف سے وکیل جے اے شٹی نے دھارواڑ ہائی کورٹ میں دعویٰ پیش کیا ہے، معاملہ کی سنوائی شروع ہونا باقی ہے۔ ادھر محکمہ پولس بھی قتل معاملے کے سبھی ثبوتوں کو جمع کرتے ہوئے پراسی کیوشن کے توسط سے الزام ثابت کرنے کی کوشش میں ہیں۔ایک تفتیشی آفیسر نے اس سلسلے میں جانکاری دیتے ہوئے بتایا کہ ضلعی عدالت کے فیصلے کا ہم نے مطالعہ کیا ہے، ملزم کے الزام کو ثابت کرنے کے لئے مضبوط ثبوت ہیں، وہ سب ہائی کورٹ میں پیش ہونگے اور ہمارا اعتماد ہے کہ ہائی کورٹ میں ملزم کو سزا ہوگی۔ خیال رہے کہ قتل معاملے میں ضلعی عدالت نے جون کےمہینے میں فیصلہ سنایا تھا۔ رہائی کے بعد وینکٹیش ہری کنتر نے شری رام سینا کے ضلعی صدر مرڈیشور کے جینت نائک کے ساتھ کاروار میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے پولس جانچ کے خلاف الزامات کی بوچھار کردی تھی ، اتنا ہی نہیں بھٹکل نامدھاری سنگھ کی طرف سے معاملے کی جانچ کا مطالبہ کرتے ہوئے بھٹکل اے سی کے ذریعے میمورنڈم سونپا گیا تھا۔
یمونا قتل معاملے کو لے کر اترکنڑا ضلع ایس پی ونایک پاٹل نے بتایا کہ یہ معاملہ پراسی کیوشن کے پاس ہے، فیصلے کے کچھ دن بعد ہائی کورٹ میں عرضی داخل کرنےکے لئے دستاویزات منگلور دفتر ارسال کی گئی ہے۔ مکمل تفتیش کے بعد فطری طورپر ہائی کورٹ میں کیس داخل ہوگا۔ لیکن جہاں تک مہلوکہ کے باپ کی طرف سے دائر کئے گئے مقدمہ کا تعلق ہے، اُس کے متعلق ہمیں کوئی جانکاری نہیں ہے۔