نئی دہلی، 7؍ جون (ایس او نیوز؍ پی ٹی آئی ) ہائی کورٹ کے سابق جج جسٹس مارکنڈے کاٹجو نے کہا کہ مودی حکومت جب بھی بحران میں پھنس جاتی ہے اُس وقت وہ مسلمانوں کو نشانہ بناتے ہوئے مظالم میں شدت پیدا کرتی ہے تا کہ عوام کی توجہ حقیقی مسائل سے ہٹائی جائے ۔ چونکہ کورونا بحران اور لاک ڈاؤن سے ملک کی معیشت مکمل تباہ ہوچکی ہے۔ صنعتیں بند ہورہی ہیں۔ کروڑوں کی تعداد میں بے روزگاری پیدا ہورہی ہے۔ معیشت انحطاط پذیر ہے۔ اب مودی حکومت ذہنی طور پر پوری طرح سے مفلوج ہوگئی ہے وہ مسائل کا حل پیش کرنے میں بالکل ناکام ہورہی ہے اس لئے تبلیغی جماعت کے بہانے مسلمانوں کو نشانہ بنانے اور ان پر مظالم ڈھانے کا سلسلہ اُس نے شروع کردیا ہے اس کی تازہ مثال کیرالہ میں حاملہ ہاتھی کی موت ہے جسے فرقہ وارانہ رنگ دینے کی کوشش کی گئی ہے۔
گذشتہ سال بھی جسٹس مارکنڈے کاٹجو نے ایک مضمون تحریر کرتے ہوئے کہا تھا کہ مودی حکومت جب بھی ناکام ہوگی ملک میں فرقہ وارانہ ماحول خراب ہوگا اور مسلمانون پر حملوں میں شدت پیدا ہوگی۔ اس وقت ہندوستان کی صورتحال نہایت تباہ کن ہے، اندیشہ ہے کہ مودی حکومت کے خلاف بڑے پیمانے پر احتجاج اور مظاہرہ کا سلسلہ شروع ہوجائے ان حالات سے بچنے کیلئے مودی حکومت کے پاس وہی ہٹلر کا آزمودہ ہتھیار موجود جو اس نے یہودیوں کے خلاف استعمال کیا تھا جس طرح ہٹلر نے تمام یہودیوں کو مورد الزام ٹھہرایا تھا اسی طرح مودی حکومت مسلمانوں کو قربانی کا بکرا بنانے کی مسلسل کوشش کرتی رہی ہے۔ آج ہندوستان میں تمام مسائل کے لئے مسلمانوں کو ذمہ دارقرار دیا جارہا ہے ۔ مسلمانوں کے خلاف نفرت مودی حکومت کی سیاسی پالیسی رہی ہے۔جسٹس کاٹجو نے ہفتہ واری انگریزی رسالہ دی ویک کو انٹرویو دیتے ہوئے اپنے ان خیالات کا اظہار کیا۔
جسٹس کاٹجو نے مزید کہا کہ حاملہ ہاتھی کی موت پر ایسے چیخ و پکار کی جارہی ہے جیسے آسمان پھٹ پڑا ہے۔ ممتاز شخصیتیں وراٹ کوہلی، رتن ٹاٹا اور سرکر دہ سیاسی قائدین بیانات پر بیانات جاری کررہے ہیں جیسے کہ ہاتھی کی موت گویا قیامت ڈھا گئی ، یہ ایک اتفاقی حادثہ تھا جو کیرالہ کے کسی مسلم علاقہ میں پیش نہیں آیا بلکہ غیر مسلم علاقہ میں پیش ٓایا ، ہاتھی کو جان بوجھ کر ہلاک نہیں کیا گیا ۔ انہوں نے کشمیر مسئلہ پر بھی اظہار خیال کیا۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کو اپنے مستقبل کا بالکل بھی شعور نہیں ہے اس لئے وہ آزادی کا خواب دیکھ رہے ہیں، آزادی میں کشمیریوں کا کوئی مستقبل محفوظ نہیں ۔