مظفرنگر ۱۹؍فروری (ایس او نیوز/پریس ریلیز) عوامی ایکتا ویلفیئر سوسائٹی دہلی و علامہ اقبال اکیڈمی دہلی کے اشتراک سے آج ایک عظیم الشان پروگرام بعنوان کلام اقبال غزل و نظم سرائی کے مقابلے کا انعقاد ایم.آر.ڈی. پبلک اسکول سانجک میں کیا گیاجس میں مختلف مدارس کے طلباء وطالبات نے حصہ لیا۔
پروگرام کی صدارت جواہر لال نہرو یونیورسٹی دہلی شعبہ اردو کے پروفیسر معین الدین جینا بڑے نے کی اور نظامت کے فرائض کلیم تیاگی نے انجام دیے۔پروگرام کا آغاز فائزہ شاہد کی تلاوت کلام پاک اور مولانا حفظ الرحمن کی نعت پاک سے ہوا۔اس مقابلہ جاتی پروگرام میں ایم.آر.ڈی. میموریل پبلک اسکول سانجک، جامعہ امام ولی اللہ پھلت، جامعہ فیض ناصر، مظفرنگر، جامعہ عائشۃ الصدیقہ للبنات، نگلہ راعی ،معہد مرشد الامت اسارا (باغپت)دہلی کے طلبہ و طالبات نے حصہ لیا۔اس کے علاوہ انفرادی طور سے عبدالصمد، شفاء شمیم افشاں انجم نے بھی شرکت کی۔
سبھی طلبہ و طالبات نے علامہ اقبال کی متعدد نظمیں وغزلیں بہترین انداز میں پیش کی۔ اس پروگرام میں معروف شاعر ڈاکٹر تنویر گوہر اورممتاز قلمکار حبیب سیفی نے بطور حکم اپنا کردار ادا کیا ۔ جنہوں نے تمام طلبہ وطالبات کو ان کے تلفظ، ترنم اور ادائیگی پر نمبرات دیے۔
اِس مقابلے میں اوّل پوزیشن عرشی راشد(جامعہ عائشۃ الصدیقہ للبنات نگلہ راعی) دوئم پوزیشن عاتکہ شاہد اور سوئم پوزیشن عائشہ شاہد (جامعہ فیض ناصر،مظفرنگر) نے حاصل کر کے اپنے ادارہ کانام روشن کیا۔ان طالبات کو تنظیم کی جانب سے اعزازی سند اور تحفہ پیش کیا گیا۔ باقی حصہ لینے والے طلبہ و طالبات کو بھی اعزازی اسناد و کتابوں کا سیٹ دیا گیا۔اِس موقع پر مذکورہ تنظیم کی جانب سے دو ایوارڈ کا اعلان کیا گیا۔ پہلا ایوارڈ اردو خدمات کے لیے ’’نشان اقبال۲۰۱۸‘‘ تحسین علی اساروی اور دوسرا ایوارڈ ’’تعلیمی خدمات ایوارڈ۔۲۰۱۸ء‘‘ محترمہ ارملہ شرما کو دیا گیا۔
بعد ازاں پروگرام کی صدارت کر رہے پروفیسر معین الدین جینا بڑے نے اپنے خطاب میں کہا کہ علامہ اقبال ہندوستان کی ملی جلی تہذیب اور مذہب اسلام کے روایتی اقدار کو بہت عزیز رکھتے تھے اور انہیں اقداروں کو وہ ہندوستان کے روشن مستقبل کا چہرا دیکھتے تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ آج کا پروگرام دیکھ کرمجھے بہت خوشی ہوئی کہ ایک ایسے علاقے جہاں پر اردو زبان کو بہت زیادہ اثر اور ماحول دیکھنے کو نہیں ملتا، اس علاقے میں بچوں نے بہترین غزلیں اور نظمیں پیش کی۔ انہوں نے تمام طلباء و طالبات اور ان کے اساتذہ اور کنوینر حکیم عطاء الرحمن اجملی کو مبارک باد پیش کی اور ان کے روشن مستقبل کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔
آل انڈیا یونانی طبی کانگریس کے جنرل سکریٹری حکیم سید احمد خاں نے بھی بڑی مسرت کا اظہار کیا اور تحسین علی و ارمِلہ شرما کو ایوارڈ حاصل کرنے پر مبارک باد پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ اردو ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن کا قیام الہٰ آباد میں ہوا اور اس کو عروج مظفرنگر والوں نے بخشا۔ جس میں سر فہرست نام تحسین علی اور کلیم تیاگی کا ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے ڈاکٹر شمیم الحسن، بدرالزماں خان، مولانا موسیٰ قاسمی اور شمیم قصار کا بھی شکریہ ادا کیا ۔ انہوں نے کہا کہ ایسے پروگرام مسلسل ہوتے رہنے چاہیے، جس سے دیہات میں بھی اردو زبان کو رواج عام ہو اور تہذیب و تمدن قائم رہے۔مہمانِ ذی وقار ڈاکٹر شمیم الحسن اور مولانا موسیٰ قاسمی نے بھی دونوں تنظیموں ، پروگرام کنوینر اور طلبہ وطالبات کو مبارک باد دی اور کہا کہ دنیا میں ترقی کرنے کے لیے سبھی علوم حاصل کریں لیکن اپنی تہذیب و تمدن کو حاصل کرنے لیے اپنی مادری زبان اردو کو ضرور سیکھیں۔
اردو ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن کے ضلع صدر اور اردو صحافی کلیم تیاگی نے کہا کہ اردو زبان کا مستقبل روشن تھا، روشن ہے اور روشن ہی رہے گا۔ اردو نہ کبھی مری ہے اور نہ مرے گی۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا آج رسم الخط کو بدلنے کی بات کی جا رہی ہے جس کی ہم سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جس زبان کا اپنا رسم الخط ختم ہو جاتا ہے تو سمجھو وہ زبان بھی ختم ہو جاتی ہے۔ لہٰذا اردو رسم الخط کو زندہ رکھیں۔ اور اپنے روز مرہ کے کاموں میں اردو کا استعمال کریں۔
حکم کے فرائض انجام دینے وا لے مظفرنگر کے ممتازاستاد شاعر ڈاکٹر تنویر گوہر نے علامہ اقبال کی شان میں لکھی ہوئی ایک بہترین نظم پیش کی، جسے سبھی موجود مہمانوں اور سامعین نے خوب داد و تحسین سے نوازااور انہوں نے کہا کہ اس طرح کے منظوم پروگرام اور مقابلوں سے بچوں کے اندر شعر و ادب سے رغبت پیدا ہو تی ہے اور شعر گو ئی کا جذ بہ پیدا ہو تا ہے ۔ہریانہ سے تشریف لائے میڈیکل آفسر ارشد غیاث نے بھی خطاب کیا۔پروگرام کو کامیاب بنانے میں خصوصی طور سے بدرالزماں خان، شمیم احمد قصار، قاری شاہد حسینی، قاری سلیم احمد، چودھری تنصیر، آشیش کمار، حافظ محمد راشد، راہل بالیان، محمد لقمان پیش پیش رہے۔ آواز حق سماجی تنظیم کے صدر شاداب خان، معروف شاعر الطاف مشعل، ماسٹر آصم تکریم تحسین ثمر ،مولانا حفظ الرحمن،حافظ محمد خالد،وغیرہ نے بھی شرکت کی۔