حیدرآباد،18جون؍(آئی این ایس انڈیا)سال 2013کے مظفرنگر فسادات کے بعد 50000مسلمانوں کے نقل مکانی کرنے کا دعویٰ کرتے ہوئے اے آئی ایم صدر اسد الدین اویسی نے آج بی جے پی سے کہا کہ کیا وہ وہاں ایک تحقیقی ٹیم بھیجیں گے جیسا کہ اس نے ہندوؤں کے مبینہ فرار کے معاملے پر کیرانہ بھیجی ہے۔حیدرآباد سے لوک سبھا رکن نے اتر پردیش کے کیرانہ سے مبینہ طور پر فرار کرنے والے 346خاندانوں کی فہرست کو فرضی بتایا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس معاملے پر ناٹک کرنا بی جے پی اور ایس پی دونوں کے مفادات کے دوستانہ بیٹھتا ہے۔اویسی نے دعویٰ کیا کہ مظفرنگر فسادات کے بعد 50000سے زیادہ لوگوں نے اپنا اصل مقام چھوڑ دیا جہاں وہ نسلوں سے رہتے آ رہے تھے۔انہوں نے اسے ملک کی آزادی کے بعد اقلیتوں کو اجتماعی طور پرہٹانے کا کام بتایا۔انہوں نے کہا کہ کیا بی جے پی ایک تفتیشی ٹیم بھیجے گی؟(مظفرنگر فسادات کے بعدبے گھرہوئے 50000لوگوں کے ساتھ کیا ہوا اس کا پتہ لگانے کے لئے کیا بی جے پی کوئی وقت نکالے گی؟)۔اویسی نے دعویٰ کیا کہ بنیادی طور پر بی جے پی کے پاس کوئی اور مسئلہ نہیں ہے اور یہ کیرانہ مسئلہ بی جے پی کا اصلی چہرہ بے نقاب کرتا ہے جو سب کاساتھ سب کاوکاس کی بات کرتی ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ بی جے پی اور سماج وادی پارٹی دونوں کیلئے مناسب بیٹھتاہے،بی جے پی اکثریتی کمیونٹی کے درمیان خوف کا احساس پیدا کرنا چاہتی ہے۔ایس پی مسلمانوں کو یہ پیغام دینا چاہتی ہے کہ اگر آپ ایس پی کا انتخاب نہیں کرتے ہیں تو، آپ کو غیر محفوظ ہیں۔اس طرح یہ ڈرامہ بی جے پی اور ایس پی، دونوں کے دوستانہ بیٹھتا ہے۔انہوں نے کہا کہ جب ایسا مسئلہ سامنے آتا ہے تو ایس پی خوش ہوتی ہے کیونکہ اسے اپنے مقصد میں ناکام رہنے اور بدانتظامی پر سوالات کا جواب دینا پڑتا ہے۔اویسی نے کہا کہ اے آئی ایم اگلے سال کے آغاز میں اتر پردیش میں ہونے والے اسمبلی انتخابات لڑے گا۔انہوں نے کہا کہ ان کی پارٹی نے اتر پردیش میں ایک اتحاد بنانے کا اختیار کھلے رکھے ہیں۔