کولکاتہ،22/جون (ایس او نیوز/ آئی این ایس انڈیا)مغربی بنگال میں دو گروہوں کے درمیان تصادم میں دو لوگوں کی موت ہو گئی اور 11 دیگر زخمی ہو گئے۔ریاست کے شمال 24 پرگنہ ضلع میں تشدد کے بعد انتظامیہ نے متعلقہ علاقے میں دفعہ 144 نافذ کر دی۔اس جھڑپ کے لئے حکمران ترنمول کانگریس اور بی جے پی نے ایک دوسرے پر الزام لگائے ہیں کیونکہ اسے بھاٹپاڑا میں اپنی دھاک قائم کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔یہ علاقہ بیرکپور لوک سبھا حلقہ کے تحت آتا ہے۔وزیر اعلی ممتا بنرجی نے اس واقعہ میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کرنے کی ہدایت دی ہے۔ایک پولیس افسر نے بتایا کہ پانچ لوگوں کو اس جھڑپ کے سلسلے میں گرفتار کیا گیا ہے۔ریاستی حکومت نے بیرکپور پولیس کمشنر تنمی رائے چودھری کو عہدے سے ہٹا دیا ہے اور ان کی جگہ منوج کمار ورما کو مقرر کیا ہے۔وہ پہلے دارجلنگ کے آ:ی جی پی تھے۔پولیس ڈائریکٹر جنرل وریندر نے جائے حادثہ کا دورہ کرنے کے بعد بتایا کہ 11 زخمی افراد میں چھ پولیس اہلکار ہیں جنہیں تشدد کو قابو میں کرنے کے دوران چوٹیں آئیں۔اطلاعات کے مطابق نو تعمیر شدہ بھاٹپاڑا تھانے کے پاس دو مخالف گروپوں کے ارکان کے درمیان جھڑپ ہوئی اور اس دوران کئی بم پھینکے گئے اور گولیاں چلائی گئیں۔نو تعمیر شدہ تھانے کا جمعرات کو داخلہ سکریٹری نے افتتاح کیا تھا۔داخلہ سکریٹری الاپن بندوپادھیائے نے کہاکہ بھاٹپاڑا میں کچھ غیر سماجی اور مجرمانہ عناصر سرگرم ہیں۔بیرونی عناصر بھی ان کے ساتھ شامل ہو گئے ہیں اور امن میں خلل پیدا کر رہے ہیں۔آر اے ایف اہلکاروں کو تعینات کیا گیا ہے۔بھاٹپاڑا میں 19 مئی کو ہوئے اسمبلی انتخابات کے بعد جھڑپ کے کئی معاملے سامنے آ چکے ہیں۔مغربی بنگال حکومت نے بھاٹپاڑا سمیت بیرکپور پولیس آیکت کے تحت آنے والے کچھ علاقوں میں حالات کو سنجیدگی سے لیا ہے۔جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا پولیس کی گولی سے لوگوں کی موت ہوئی ہے کیونکہ مقامی لوگ ایسا الزام لگا رہے ہیں تو انہوں نے کہاکہ موت کے وجوہات کی تحقیقات کی جا رہی ہے۔پولیس نے ہوا میں گولی چلائی تھی۔ایک سینئر پولیس افسر نے بتایا کہ مرنے والوں کی شناخت رام بابو شا اور دھرم ویر شا کے طور پر ہوئی ہے۔