ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / مغربی بنگال: ممتا حکومت اور گورنر جگدیپ دھنکھڑ میں سیاسی جنگ تیز، بی جے پی نے بولا حملہ

مغربی بنگال: ممتا حکومت اور گورنر جگدیپ دھنکھڑ میں سیاسی جنگ تیز، بی جے پی نے بولا حملہ

Tue, 22 Oct 2019 19:48:37    S.O. News Service

کولکاتہ،22اکتوبر(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)مغربی بنگال کے گورنر جگدیپ دھنکھڑ اور ممتا بنرجی حکومت میں سیاسی جنگ تیز ہوتی جا رہی ہے۔گورنر دھنکھڑ نے ریاست کے شمالی 24 پرگنہ ضلع میں ان کی ملاقات میں شامل ہونے سے سرکاری حکام کے انکار کے بعد کہا ہے کہ انہیں ایسا لگتا ہے کہ مغربی بنگال میں کسی قسم کی سنسر شپ نافذ ہے۔انہوں نے کہا کہ حکام کا اجلاس میں شامل ہونے سے انکار کرنا غیر آئینی ہے اور میں ریاستی حکومت کے تحت نہیں آتا ہوں۔اس سے پہلے شمالی 24 پرگنہ ضلع کے حکام نے وزیر اعلی ممتا بنرجی کے انتظامی دورے کو دیکھتے ہوئے گورنر کے اجلاس میں شامل ہونے سے انکار کر دیا تھا۔دھنکھڑ نے ان کے انکار کو غیر آئینی بتایا ہے۔گورنر نے بتایاکہ ضلع حکام کے خط دیکھ کر میں حیران ہوں، کاغذات میں انہوں نے اجلاسوں میں شامل ہونے کے لئے عدم اتفاق ظاہر کیا ہے، وہ بھی تب جبکہ انہیں 4 دن پہلے اس بابت اطلاع دی گئی تھی،پتہ نہیں، لیکن ایسا لگتا ہے کہ مغربی بنگال میں کسی طرح کی سنسر شپ ہے۔گورنر نے کہاکہ اس کے باوجود میں اضلاع کا اپنا دورہ جاری رکھوں گا۔ بتا دیں کہ گورنر نے گزشتہ ہفتے مغربی اور جنوبی 24 پرگنہ اضلاع کے ضلع مجسٹریٹ، نوکرشاہوں اور منتخب نمائندوں کے ساتھ ملاقات کرنے کی خواہش ظاہر کی تھی۔انہوں نے منگل سے یہاں کا دورہ شروع کیا ہے۔گورنرہاؤس کے ذرائع نے بتایا کہ گورنر کے دفتر کو پیر کی شام دو اضلاع کے ضلع مجسٹریٹ سے خط ملے جن میں کہا گیا تھا کہ افسر وزیر اعلی کے شمالی بنگال کے دورے میں مصروفیت کی وجہ سے گورنر کے اجلاسوں میں شامل نہیں ہو پائیں گے۔بتا دیں کہ گورنر دھنکھڑ اور ریاستی حکومت کے درمیان بہت سے مسائل کو لے کر تنازعہ چل رہے ہیں۔اس دوران بی جے پی قومی جنرل سکریٹری کیلاش وجے ورگیہ نے مغربی بنگال کی ممتا بنرجی حکومت پر نشانہ لگایا ہے۔وجے ورگیہ نے اس معاملے پر کہاکہ مغربی بنگال حکومت ممتا بنرجی کی حکومت ہے، یہ آئین کی پیروی نہیں کرتی ہے،اگر ریاست کے گورنر کو اجازت لینی پڑ رہی ہے تو اس سے پتہ چلتا ہے کہ ممتا بنرجی کا قانون جو مغربی بنگال میں چلتا ہے، وہ ملک کا قانون نہیں ہے۔


Share: