ممبئی 24؍ جنوری(ایس او نیوز؍پریس ریلیز) ممنو ع تنظیم داعش کے رکن ہونے کے الزامات کے تحت گرفتار ملزمین محسن شیخ اور رضوان احمد کے مقدمہ کی سماعت آج دوبارہ نئے جج کے روبرو شروع ہوئی جس کے دوران استغاثہ نے موبائل سیم شاپ کے مالک کو پیش کیا جس سے ملزمین کو قانونی امداد فراہم کرنے والی تنظیم جمعیۃ علماء مہاراشٹر (ارشد مدنی) کے وکلاء عبدالواہاب خان اور شریف شیخ نے جرح کی۔
واضح رہے کہ دو ماہ قبل خصوصی این آئی اے عدالت کے جج سمیر اڑکرکا اچانک تبادلہ ہوجانے سے مقدمہ کی سماعت تھم گئی تھی لیکن نئے جج اے ٹی وانکھیڈے کی تقرری کے بعد معاملے کی سماعت دوبارہ شروع ہوئی۔
آج وکیل استغاثہ پرکاش شیٹی نے سرکاری گواہ (نام مخفی رکھا گیا ہے) سے سوالات کیئے جس نے عدالت کو اس معاملے میں گرفتار ملزمین کے دوست کو دو سیم کارڈ فروخت کرنے کا دعوی کیا ۔
ایڈوکیٹ پرکاش شیٹی کی جانب سے پوچھے گئے سوالات کے اختتام کے بعد دفاعی وکلاء عبدالوہاب خان اور شریف شیخ نے گواہ سے جرح کی اور اس پر الزام عائد کیا کہ اس نے کبھی کسی کو سیم کارڈ فروخت نہیں کیا تھا بلکہ آج وہ خصوصی عدالت میں این آئی اے کے دباؤ میں ملزمین کے خلاف جھوٹی گواہی دے رہا ہے۔
سرکاری گواہ کے بیان کے اندراج کے بعد عدالت نے ۴؍ فروری کو دیگر سرکاری گواہوں کو عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیتے ہوئے اپنی کارروائی ملتوی کردی۔
اسی درمیان دفاعی وکلاء نے عدالت سے گذارش کی کہ وہ ’’کیس ڈائری‘‘ (مقدمہ کے تعلق سے کی گئی تفتیش کی تفصیلات) عدالت میں جمع کرانے کے لیئے استغاثہ کو حکم دے کیونکہ اب مقدمہ کی سماعت باقاعدہ شروع ہوچکی ہے لہذا کیس ڈائری سے چھیڑ چھاڑ کے امکانات بنے رہتے ہیں لہذا یہ انصاف کا تقاضہ ہے کیس ڈائری کو عدالت کی تحویل میں دیا جائے ۔
دفاعی وکلاء کی درخواست پر عدالت نے فریقین کو حکم دیا کہ وہ اس تعلق سے ۴؍ فروری کو بحث کریں اس کے بعد عدالت اپنا فیصلہ صادر کریگی۔
واضح رہے کہ ممبئی کے مضافات ملاڈ مالونی سے تعلق رکھنے والئے محسن شیخ اور اتر پردیش کے گورکھپور سے تعلق رکھنے والے رضوان احمد کو ممبئی اے ٹی ایس نے داعش کے ہم خیال اور رکن ہونے کے الزامات کے تحت گرفتار کیا تھا اور ان پر ملک دشمنی سمیت دیگر سخت دفعات عائد کیئے تھے ۔ مرکزی حکومت کے حکم، نامہ کے مطابق گذشتہ سال اس مقدمہ کو اے ٹی ایس سے لیکر این آئی اے کے حوالے کردیا گیا تھا جس کے بعد سے اس کی سماعت خصوصی این آئی اے عدالت کررہی ہے۔