ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / منتخب عوامی نمائندوں کے دائرہ اختیار کی وضاحت ضروری :ریڈی اسٹانڈنگ کمیٹیوں کے اراکین کے اختیارات کی حدود مقرر کرنے حکومت سے منظوری لی جائے

منتخب عوامی نمائندوں کے دائرہ اختیار کی وضاحت ضروری :ریڈی اسٹانڈنگ کمیٹیوں کے اراکین کے اختیارات کی حدود مقرر کرنے حکومت سے منظوری لی جائے

Sat, 30 Jun 2018 11:29:14    S.O. News Service

بنگلورو،30؍جون (ایس او نیوز) بروہت بنگلور مہا نگر پالیکے( بی بی ایم پی) میں اپوزیشن پارٹی لیڈر پدمانابھ ریڈی نے مطالبہ کیا کہ بی بی ایم پی اسٹانڈنگ کمیٹیوں کے اراکین کے اختیارکے حدود کے تعلق سے ذیلی کمیٹی تشکیل دے کررپورٹ حاصل کرنے کے بعد کونسل اجلاس میں بحث کے بعد حکومت کو روانہ کرکے منظوری حاصل کی جائے۔

انہوں نے بتایا کہ بی بی ایم پی میں منتخب عوامی نمائندے اور افسران ایک گاڑی کے بیل کی مانند ہیں ،جنہیں آپسی تال میل کے ذریعہ کام کرنا چاہئے اور منتخب عوامی نمائندوں کا دائرہ اختیار کیا ہے اس کی وضاحت ضروری ہے۔بی بی ایم پی میں برسراقتدار پارٹی لیڈرایم ۔ شیوراج کے حکومت کو روانہ کردہ بجٹ کو منطوری ملنے کے بعد انہیں مبارکباد پیش کرتے ہوئے پدمانابھ ریڈی نے کہا کہ کے ایم سی ایکٹ کے تحت منتخب عوامی نمائندوں کے اختیار کے حدود کیا ہیں اس پر بحث کی اشد ضرورت ہے ۔ ضرور ت پڑنے پر اس ایکٹ میں ترمیم بھی کرنی چاہئے ۔ بی بی ایم پی کونسل اجلاس کے دوران بات کرتے ہوئے مسٹر ریڈی نے کہا کہ منتخب عوامی نمائندوں کے اختیارات ایک طرح سے کندایا سائٹوں کی مانند ہے۔ انہوں نے کہا کہ ذیلی کمیٹی تشکیل دے کر حکومت سے ہاتھ ملانا چاہئے ۔ لیکن مئیر سمپت راج نے اسٹانڈنگ کمیٹیوں کے اختیارات کے متعلق تین سے چار ماہ کے بعد اس پراپنی توجہ مبذول کی ہے۔ بی بی ایم پی کو تقسیم کرنے کے متعلق وظیفہ یاب آئی اے ایس افسر بی ایس پاٹیل کی رپورٹ کو پیش کرتے ہوئے پدمانابھ ریڈی نے کہا کہ منتخب عوامی نمائندوں کواختیارات دےئے جائیں تو جمہوری نظام کو عام کرنے کے مانند ہوگا ۔ لیکن اب صرف کمشنر ہی کو اختیارات دےئے گئے ہیں ۔ اس جانب بھی توجہ مبذول کرنے کی مانگ کی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اکاؤنٹس اسٹانڈنگ کمیٹی اب تک اپنا ایک بھی اجلاس نہیں کرپائی ہے ۔ گزشتہ ڈیڑھ سال سے مذکورہ کمیٹی کا ایک بھی اجلاس نہیں طلب کیا گیا ہے۔

انہوں نے کونسل سے مطالبہ کیا کہ مذکورہ اکاؤنٹس کمیٹی ہر ماہ اپنا حساب وکتاب پیش کرے۔ لیکن افسوس کہ ابھی تک کونسل کے سامنے کوئی حساب وکتاب پیش نہیں کیا گیا ہے۔ بی جے پی کا رپوریٹر ڈاکٹر راجو نے کہا کہ بی بی ایم پی اکاؤنٹس اسٹانڈنگ کمیٹی بدعنوانیوں کا پتہ لگانے میں پوری طرح ناکام رہی ہے ۔ اس کی اصل وجہ ابھی تک ایک بھی اجلاس طلب نہ کیا جانا ہے ۔کوڑا کرکٹ نکاسی کرنے والے آٹو رکشا اور کیمپیکٹرس کے غلط حساب پیش کئے جانے کی بات آج کونسل اجلاس کے دوران بحث کا موضوع بنی رہی ۔ حکمران اور اپوزیشن اراکین کے درمیان ایک دوسرے پر حملہ اور جوابی حملہ دیکھنے کو ملا ۔ بی جے پی کے امیش شٹی ،کانگریس کے منجوناتھ ریڈی سمیت دیگر اراکین نے اس مسئلہ کو اٹھا کر کہا کہ غلط تفصیلات جنہوں نے پیش کئے جانے کی وجہ سے شہریان، کارپوریٹران پر شک کی نگاہ سے دیکھنے لگے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ غلط تفصیلات بھی پیش کئے ہوں ایسے افراد کی نشاندہی کرکے ان کے خلاف فوجداری مقدمہ دائر کئے جائیں ۔

انہوں نے بتایا کہ عوام میں یہ رجحان دیکھنے کو مل رہا ہے کہ بی بی ایم پی رشوت خور اور بدعنوان ہوچکا ہے ۔ اس کو غلط ثابت کرنے کی ضرورت ہے۔ بی جے پی کے کٹا ستیہ نارائن نے کہا کہ ہر ایک وارڈکے لئے دو آٹو ٹپرس کے تحت200آٹو رکشا درکار ہیں۔ لیکن افسوس کے 5000آٹو رکشا ؤں کو بتا کر بل حاصل کی جارہی ہے۔ انہوں نے بتایاکہ یہ غلط تفصیلات پیش کئے جانے کے معاملہ پر بحث کے لئے خصوصی اجلاس طلب کیا جائے۔ میئر سمپت راج نے کہا کہ سڑکوں پر پڑے گڈھوں کو بند کئے جانے کے کام کی نگرانی کے لئے ایک چیف انجینئر کو مقرر کیا جائے گا۔کونسل اجلاس کے دوران کہا کہ ہراخبار میں سڑکوں پر پڑے گڈھوں کے متعلق خبریں شائع ہونے لگی ہیں ۔ اس کے ساتھ کوڑا کرکٹ نکاسی پر بھی بحث ہونے لگی ہے ۔ اس کودیکھ کر انہیں شرم محسوس ہونے لگی ہے ۔ اسلئے اب گڈھوں کوبند کرنے کی نگرانی کے لئے چیف انجینئر کو مقرر کیا جائے گا۔ اس سلسلہ میں مےئرنے افسران کو ہدایت بھی دی ہے۔ اس دران برسراقتدار پارٹی کے لیڈر ایم ۔ شیوراج نے مےئر سے گزارش کی کہ جاریہ سال کے تعمیراتی کاموں کے پراجکٹوں پر فوری عمل کرنے کے متعلق افسران کو ہدایت دی جائے۔انہوں نے بتایا کہ جنتادل سکیولر کانگریس مخلوط حکومت نے بی بی ایم پی بجٹ کومنظوری دے دی ہے۔ اس کیلئے وزیر اعلیٰ ایچ ڈی کمار سوامی اورنائب وزیراعلیٰ ڈاکٹر جی پرمیشور کاشکریہ ادا کیا۔


Share: