ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / منڈیا کے ایک عیسائی اسکول پر سنگھیوں کا دھاوا۔ کرسمس منانے پر اعتراض، ہندؤوں کا تہوار نہ منائے جانے پراُٹھارہے تھے سوال

منڈیا کے ایک عیسائی اسکول پر سنگھیوں کا دھاوا۔ کرسمس منانے پر اعتراض، ہندؤوں کا تہوار نہ منائے جانے پراُٹھارہے تھے سوال

Sat, 25 Dec 2021 11:02:23    S.O. News Service

منڈیا، 25؍دسمبر(ایس او  نیوز)کرناٹک میں جمعرات کو ہندو تنظیموں کے کچھ کارکن زبردستی ایک اسکول میں داخل ہوئے اور وہاں ہنگامہ برپا کیا۔ اس دوران دائیں بازو کے گروپوں کے کارکنوں نے اسکول میں منائے جانے والے کرسمس پروگرام کو بھی روک دیا اور اسکول انتظامیہ سے سوال کیا کہ ہمارے تہوار کیوں نہیں منائے جاتے ؟

دراصل یہ معاملہ کرناٹک کے منڈیا ضلع کے نرملا انگلش ہائی اسکول کا ہے۔ جہاں جمعرات کو کرسمس کا پروگرام منایا جا رہا تھا۔ اس دوران دائیں بازو  گروپ کے کچھ کارکن زبردستی اسکول میں گھس گئے اور اسکول انتظامیہ سے پوچھ گچھ شروع کردی۔ دائیں بازو کے گروپ کی جانب سے اسکول انتظامیہ کو سوالات کے جوابات دینے کی ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی ہے۔وائرل ویڈیو میں دائیں بازو کے ایک گروپ کے کچھ کارکن اسکول انتظامیہ سے پوچھتے ہیں کہ اسکول میں ہندو تہوار کیوں نہیں منایا جاتا۔ ویڈیو میں ایک مرد کارکن یہ کہتے ہوئے بھی نظر آرہا ہے کہ ہم فیصلہ بچوں کے والدین پر چھوڑتے ہیں۔ اگر ہم اسے اپنے ہاتھ میں لے لیں تو صورتحال بالکل مختلف ہوگی۔نرملا ہائی اسکول کی پرنسپل کنیکا فرانسس نے اس واقعے کے بارے میں نیوز چینل این ڈی ٹی وی کو بتایا کہ ہم ہر سال کرسمس کی تقریبات کا اہتمام کرتے ہیں۔ لیکن کورونا کی وجہ سے ہم نے اسے نہ منانے کا فیصلہ کیا۔ لیکن طلبہ کے اصرار پر ہم نے ایک چھوٹا سا پروگرام منعقد کیا۔ یہ طلبا ہی تھے جنہوں نے پروگرام کے لیے رضاکارانہ طور پر کام کیا اور کیک کا آرڈر دیا۔ جس پر والدین نے اعتراض کیا۔اعتراض اٹھانے والے والدین نے مقامی ہندو تنظیموں کے کارکنوں کو آگاہ کیا اور کہا کہ اسکول میں عیسائیت کا پرچار کیا جا رہا ہے۔ یہاں کرسمس منایا جاتا ہے لیکن ہندو تہوار نہیں منایا جاتا۔جس کے بعد ہندو تنظیموں کے کارکنان نے اسکول میں گھس کر کرسمس کا پروگرام روک دیا اور ہنگامہ کیا۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ہندو تنظیموں کے کارکنوں نے ہم سے اسکول میں گنیش چترتی منانے کو کہا ہے اور اسکول میں سرسوتی کی تصویر لگانے کو بھی کہا ہے۔ اسکول انتظامیہ نے اس معاملے میں شکایت درج کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔ تنظیموں کے کارکنوں کو دیا اور کہا کہ سکول میں عیسائیت کا پرچار کیا جا رہا ہے۔ یہاں کرسمس منایا جاتا ہے لیکن ہندو تہوار نہیں منایا جاتا۔غور طلب ہے کہ اس سے قبل جنوبی کرناٹک کے چکبالا پور ضلع میں ایک چرچ میں توڑ پھوڑ کا واقعہ سامنے آیا تھا۔ انتشار پسند عناصر نے چرچ میں سینٹ انتھونی کا مجسمہ توڑ دیا۔ واضح رہے کہ جمعرات کو کرناٹک اسمبلی میں بی جے پی حکومت کی طرف سے پیش کردہ تبدیلی مذہب مخالف بل کو منظوری دے دی گئی ہے۔ بل میں مذہب تبدیل کرنے کی صورت میں 3سے5سال قید اور25ہزار روپے جرمانے کی گنجائش رکھی گئی ہے۔


Share: