منگلورو، 3؍ مارچ (ایس او نیوز) مانسون سیزن کے دوران شرڈی ، چارمڑی اور سمپگے گھاٹوں پر زمین کھسلنے سے بنگلورو سے ساحلی شہرکا منگلورو سے راستے کا جوڑ متاثر ہوتا ہے۔
مینو فیکچرنگ اور سرویس انڈسٹری جس کا زیادہ تر انحصار شاہراہوں پر ہوتا ہے اس کے سبب وہ متاثر ہوتی ہے، اس لئے کہ وہ ایک مقام سے دوسرے مقام تک انسانوں اور کارگو کو منتقل کرنے میں دشواری محسوس کرتے ہیں۔
مجوزہ سرنگ کے راستے کے کوئی آثار نہ ہو تے ہوئے منگلورو اور ساحلی علاقے کا صنعتی شعبہ محسوس کرتا ہے کہ منگلورو انٹر نیشنل ائیر پورٹ (ایم آئی اے ) کو اڑان کے تحت لایا جانا سرویس انڈسٹری اور علاقائی معشیت کو فروغ دینے کی واحد گنجائش ہے۔
کے سی سی آئی کے صدر ایزاک واس نے مرکز اور ریاستی حکومتوں سے کہا ہے کہ وہ بیلگاوی ، ہبلی اور کلبرگی جیسے ٹائر IIکے شہروں کو جوڑنے کے لئے منگلورو کو ’’اڑاان‘‘ کے تحت لے آئیں۔
پچھلے کچھ سالوں میں بنگلورو کے سوا ریاست کے دوسرے شہروں کو کوئی فلائٹس نہیں تھیں، یہاں سے دوبئی اور ابوظہبی کا انٹر نیشنل فلائٹس اڑان بھرتے ہیں۔
اس کے علاوہ ممبئی، تروننت پورم ، حیدر آباد ، کوچی، دہلی اور چنئی لئے بھی یہاں سے طیارے اڑان بھرتے ہیں۔ کئی ٹائر II شہروں کے ائیر پورٹ دھیرے دھیرے کار کرد ہونے کے ساتھ ہی منگلورو کے تاجر محسوس کرتے ہیں منگلورو کو کم از کم ہبلی، میسورو اور بیلگاوی کے ساتھ فضا کے ذریعے جوڑ بنانے کے لئے سیاسی لیڈر اپنی دلچسپی دکھائیں۔
ایزاک واس نے کہا کہ مختلف ٹائر 2 شہروں کے درمیان فلائٹس چلانے سے ساحلی اقتصادیات کو مد د ملے گی۔
منگلورو ائیر پورٹ کے سابق ڈائر کٹر واسودیور راؤ نے کہا ائیر پورٹ میں مختصر مسافت کے فلائٹس چلانے کی سہولیات ہیں اور کرایوں کو مناسب رکھنے کے لئے یہ آپریٹروں کے لئے فائدہ مند بھی ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ اگر کرایہ 6000/4000 ہوتو اس میں کوئی نہیں جائے گا۔ اگر یہ 2500/2000 روپے ہوا تو لوگ یقیناً جائیں گے۔
ادانی کے منگلورو ائیر پورٹ لینے کے ساتھ ہی عوامی نمائندوں کے لئے یہ صحیح وقت ہے کہ وہ مختصر دوری کی فلائٹوں کے لئے لابی چلائیں۔
انہوں نے کہا کہ منگلورو ائیر پورٹ کی 22؍ لاکھ کی ٹرافک میں سے 17 لاکھ کی ٹرافک گھریلو اڑان بھرنے والے ہیں۔ اس کے یہ معنی ہیں کہ علاقائی فضائی جوڑ کے لئے زبردست ڈیمانڈ ہوگا۔