ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / منگلورو سے لکشدیپ جزیرے تک آبی جہاز سے سفر کاہوا دوبارہ آغاز 

منگلورو سے لکشدیپ جزیرے تک آبی جہاز سے سفر کاہوا دوبارہ آغاز 

Thu, 05 Mar 2020 16:26:36    S.O. News Service

منگلورو5/مارچ (ایس او نیوز) لکشدیپ انتظامیہ نے منگلورو سے لکشدیپ جزیرے تک پانی کے جہاز کے ذریعے سفرکا دوبارہ آغاز کردیا ہے۔ اب سیاحت اور تجارت کے لئے لکشدیپ جانے کا اراد ہ رکھنے والے شہر کی قدیم بندرگاہ سے آبی جہاز پر صرف 200روپے کے ٹکٹ کے ساتھ یہ سفر کرسکیں گے۔

خیال رہے کہ اس قسم کی سروس کچھ سال پہلے منگلورو سے شروع کی گئی تھی لیکن کچھ عرصے بعد اسے بند کردیا گیا تھا۔ اس لئے لوگوں کولکشدیپ جزیرے تک جانے کے لئے کیرالہ کے کوچی شہر سے آبی جہازیا ہوائی جہاز کا سفر اختیار کرنا پڑتاتھا۔ اب منگلورو کی بندرگاہ سے لکشدیپ جزیرے کا دروازہ کھولنے سے سیاحت کو بہت زیادہ فروغ ملنے کے امکانات پید ا ہوگئے ہیں۔

جزیرے پر جانے کے خواہشمند مسافروں کولکشدیپ کے کسی باشندے کی جانب سے اسپانسرشپ کا لیٹر حاصل کرنا ہوگا۔اور منگلورو بندرگاہ پر واقع دفتر میں جہاز کا ٹکٹ بک کروانا ہوگا۔’ایم وی مینیکوئی‘نامی جہازبدھ کے دن دوپہر 1بجے منگلورو سے روانہ ہوگا اور دوسرے دن صبح لکشدیپ پہنچے گا۔جزیرے کی سیر و سیاحت کے لئے لکشدیپ انتظامیہ کی طرف سے جاری کردہ ’اینٹری پرمٹ‘ کا ہونا لازمی ہے۔ اس کاغذی کارروائی کا کام لکشدیپ کے اس باشندے کو کرنا ہوتا ہے جو اسپانسرشپ لیٹر جاری کرتا ہے۔ ٹکٹ بک کرنے کے لئے شناختی کارڈ کا ہونا ضروری ہے۔

منگلورو میں ٹورسٹ ایجنسیاں موجود ہیں جو پیکیج کے طور پر اس سفر کا اہتمام کرتی ہیں۔جس میں کاغذی کارروائی، قیام وطعام اور سیر سیاحت جیسے تمام امور شامل ہوتے ہیں۔اس وقت جس جہاز کے ذریعے سفر کیا جاسکتا ہے اس میں 150مسافروں کے لئے نشستیں موجود ہیں۔

دکشن کنڑا کوسٹل ریگیولیشن زون منیجمنٹ کمیٹی نے2015میں لکشدیپ انتظامیہ کو منگلورو بندرگاہ میں اپنا دفتر اور دیگر سہولیات کی تعمیر کے لئے نو آبجکشن سرٹفکیٹ دیا تھا۔ا ب کرناٹکا پورٹ ڈپارٹمنٹ اورلکشدیپ انتظامیہ نے یہاں گودی، مسافروں کے لئے لاونج، سامان رکھنے کے شیڈس اور دیگر سہولتوں کی تعمیر کا منصوبہ بنایا ہے جس کی لاگت کااندازہ 50کروڑ روپے ہے۔اس منصوبے کے لئے 8000اسکوائر میٹر زمین کو مختص کردیا گیا ہے۔اس منصوبے پر عمل کب سے شروع ہوگا اس کے تعلق سے ابھی کوئی تفصیل معلوم نہیں ہوئی ہے۔


Share: