منگلورو29/فروری (ایس او نیوز) کرناٹکا ہائی کورٹ نے شہریت ترمیمی قانون مخالف احتجاج کے دوران منگلورو میں ہوئے تشدد اور فائرنگ کے سلسلے میں پولیس کے خلاف ایف آئی آر درج نہ کرنے پر سرکاری وکیل کو لتاڑتے ہوئے کہا کہ پولیس کے خلاف کی جانے والی شکایات پر ایف آئی آر درج کیے بغیر پولیس ان شکایات کو جھوٹ قرارنہیں دے سکتی۔
جسٹس ابھئے اوکا اور جسٹس ہیمنت چندن گوڈا کی ڈیویزن بینچ نے ایڈوکیٹ جنرل پربھولنگا نواڈگی کو 17مارچ تک کی مہلت دیتے ہوئے کہا وہ اس دوران ہدایات اور تفصیلا ت حاصل کریں۔اس سے پہلے والی سماعت کے وقت مجاہد آزادی دورے سوامی کی مفادعامہ کی عرضی پر بحث کرتے ہوئے ان کے وکیل ایڈوکیٹ روی ورما کمار نے کہا تھا کہ”تشدد سے متاثرہ افراد کی طرف سے شکایات درج کروانے کے باوجود پولیس کے خلاف ایک معاملے میں بھی ایف آئی آر داخل نہیں کی گئی ہے۔“اس کے جواب میں ایڈوکیٹ جنرل نے کہا کہ تشدد کے معاملات کی جانچ سی آئی ڈی کو منتقل کی گئی ہے۔ تمام شکایات کو مقامی پولیس نے سی آئی ڈی کے حوالے کردیا ہے۔
عدالت نے یہ بھی ہدایت دی تھی کہ عوام کے پاس موجود ویڈیوکلپس حاصل کیے جائیں۔ اس کے جواب میں اڈپی کے ڈی سی اور ضلع میجسٹریٹ جگدیشا نے حلف نامہ داخل کرتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے عوام اور میڈیا سے والوں سے تشدد کے معاملے کی کلپس جمع کروانے کی درخواست میڈیا میں شائع کی تھی۔ جس کے مطابق ایک شخص نے ایک سی ڈی اور ایک مہربند پین ڈرائیوجمع کروایاہے جس میں 50ویڈیو کلپس موجود ہیں۔ انہوں نے مزید یہ بھی کہا کہ 19 فروری کوایک اور شخص نے ایک سی ڈی اور کچھ سوشیل میڈیا کی ویڈیو کلپس والا پین ڈرائیوجمع کروایا، لیکن اسے قبول نہیں کیا گیا کیونکہ اس کی اصلیت پر یقین کرنا ممکن نہیں تھا۔ایڈوکیٹ جنرل نے عدالت کو بتایا کہ اس معاملے کی جو میجسٹریٹ انکوائری ہورہی ہے وہ 24مارچ تک مکمل ہونے کی توقع ہے۔
خیال رہے کہ مجاہد آزادی دورے سوامی نے عدالت میں جو درخواست دے رکھی ہے اس کے مطابق پولیس نے منگلورو شہر میں ہوئے واقعات کے سلسلے میں 32ایف آئی آر داخل کی ہے۔ چند ایف آئی آر کے اندر نامعلوم لوگوں کو ملزم بنایا گیا ہے، مگر اس میں ”نامعلوم مسلم نوجوان“ لکھا گیا ہے۔ تمام ایف آئی آر کا گہرائی سے جائزہ لینے کے بعد معلوم ہوتا ہے کہ عوام کوپولیس فائرنگ اورلاٹھی چارج کی وجہ سے جو نقصان پہنچا ہے اس کے خلاف پولیس کے خلاف کوئی شکایت درج نہیں کی گئی ہے۔ جبکہ اسی معاملے میں مظاہرین کویا پھر سڑک کنارے کھڑے ہوئے افراد کو ملزم بنایا گیا ہے۔اس درخواست میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ 19دسمبر کے واقعات کے سلسلے میں فائرنگ میں ہلاک ہونے والوں کے اہل خانہ اور دیگر زخمیوں کی طرف سے درج کی گئی شکایات پر ایف آئی آر داخل کرنے کی ہدایت جاری کی جائے اور اس کی تحقیقات کے عدالت کی نگرانی میں ایک اسپیشل انویسٹی گیشن ٹیم(SIT) تشکیل دی جائے اور اس کی قیادت کسی ایسے اعلیٰ پولیس آفیسر کرے، جو ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل سے کم درجے کا نہ ہو۔تاکہ متاثرین کو انصاف ملے۔