ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / منگلورو:مسلمانوں کی سکیولر سیاسی پارٹی کی تشکیل وقت کی مجبوری :پروفیسر مظفر اسدی

منگلورو:مسلمانوں کی سکیولر سیاسی پارٹی کی تشکیل وقت کی مجبوری :پروفیسر مظفر اسدی

Mon, 15 May 2017 21:48:20    S.O. News Service

منگلورو:15/مئی (ایس اؤنیوز) دیگر میدانوں میں جس طرح مسلمانوں کو مواقع فراہم کرنے سے انکار کیا گیا یہ اسی کا نتیجہ ہے کہ سیاست میں مسلمانوں کی نمائندگی نہیں کے برابر ہے۔ ریاستی ودھان سبھامیں مسلمانوں کی تعداد صرف 11ہے تو لوک سبھا میں صرف 23کا ہونا بھار ت میں مسلمانوں کی سیاسی نمائندگی کی اصلیت کو ظاہر کرتے ہیں۔ مسلمانوں کو مذہب کی بنیاد پر کوئی ریزرویشن نہیں دیا جاتاہے ،دلتوں اور مسلمانوں کے متعلق رنگناتھ مشرا کمیشن نے تفصیلی رپورٹ پیش کی ہے۔ میسور یونیورسٹی کے سیاسی تجزیہ کار پروفیسر مظفر اسدی نے ان خیالات کااظہار کیا۔

مذہب سے یکسر انکار کا نظریہ رکھنے والے کمیونسٹوں کی طلبا تنظیم ڈی وائی ایف آئی کی طرف سے پہلی مرتبہ منگلورو میں منعقدہ ’’مسلم یوتھ کانفرنس ‘‘میں ’سیاست میں مسلمانوں کی نمائندگی ‘پر اپنے خیالات کا اظہار کررہے تھے۔ پروفیسر اسدی نے کہاکہ موجودہ سیاست میں مسلمان بہت ہی کم ہیں، حالات تقاضا کرتے ہیں کہ مسلمانوں کی ایک سیاسی پارٹی ہونا چاہئے۔ انہوں نے کہاکہ جب مسلمان ، مسلمانوں کے متعلق بات کرتے ہیں تو انہیں فرقہ پرست کہا جاتاہے۔ ان حالات میں سکیولرزم کی بنیاد پر ایک سیاسی پارٹی کا قیام مسلمانوں کی مجبوری بن گئی ہے، اگر یہ ہوجاتاہے تو مسلمان ہر طرح کی پریشانیوں سے چھٹکار ا پانا ممکن ہوگا۔ غربت، بے روزگاری کو مسلمانوں کے مسائل کہاجاتاہے۔ لیکن جہاں تک میرا خیال ہے یہ مسلمانوں کے بنیاد ی مسائل نہیں ہیں، زندگی کا تحفظ نہ ہونا ہی ان کا اہم مسئلہ ہے، مسلمانوں میں 75فی صد لوگ صرف 12روپئے میں دن کاگزارہ کرنے والے غریب ہیں، اسی لئے تحفظ مسلمانوں کا بنیادی مسئلہ ہے، فرقہ وارانہ فسادات مسلمانوں کو ترقی سے پیچھے لے جانے کی بات کہی۔

گائے ذبح کے مسئلہ کو سیاسی رنگ میں پیش کیا جاتاہے جب کہ صرف 50فی صد مسلمان ہی جانور کا گوشت کھاتے ہونگے۔ اسی طرح اردو بھی مسلمانوں کی زبان نہیں ہے، 49فی صد مسلمان غیر اردو زبانوں کا استعمال کرتے ہیں ، لیکن بار بار اردو کو مسلمانوں کا لیبل لگا کر اردو کو دبایا جاتا ہے۔انہوں نے افسوس ظاہر کرتے ہوئے کہاکہ سیاست نے زبان ، مذہب ، ذات کسی کو نہیں چھوڑا ہے۔ آج کے حالات میں مسلمانوں کو شناختی مسائل کا بھی سامنا ہے۔ ٹوپی، داڑھی ، شروانی اور برقعہ عوامی سطح پر مسلمانوں کی پہچان بن گئے ہیں، ایک سیاسی لیڈر کے تمام مسلمان دہشت گرد نہیں ہیں لیکن تمام دہشت گرد مسلمان ہیں ہونے کا بیان ملک بھر میں مسلمانوں کے متعلق بہت ہی غلط خیالات پیدا ہونے کی اہم وجہ بنے کی واضح مثال قرارد یا۔

پروگرام میں اے آئی آئی ای اے یو کے قومی صدر امان اللہ خان نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ سیاست میں مسلمانوں کی نمائندگی کو لے کر مذاکرے اور بحث ہونی چاہئے۔ سیاست سے مسلمانوں کو نکال باہر کرنے کی بات کہتے ہوئے امان اللہ خان نے کہا کہ اترپردیش میں 3.5کروڑ مسلمان ہیں ،کل آبادی 20کروڑ ہے، لیکن وہاں سیاسی سطح پر مسلمانوں کی نمائندگی کتنی ہے؟ اسی طرح کرناٹکا میں 80لاکھ مسلمان ہیں لیکن پارلیمنٹ میں کرناٹکا کی طرف سے ایک بھی مسلم رکن پارلیمان نہیں ہے تو سمجھ سکتے ہیں کہ سیاسی طورپر مسلمانوں کی کیا حالت ہے۔

متعصب میڈیا اور مسلمان کے موضوع پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے پروفیسر کے فنی راج نے کہاکہ میڈیا کے میدان میں فرقہ پرست طاقتیں گھستی جارہی ہیں اس تعلق سے بھی عوام میں بیداری پید اکرنے کی ضرورت ہے۔ اب تک میڈیا جنگ آزادی کی جدوجہد ، سرمایہ داروں ، جاگیرداروں کے متعلق سوال کیا کرتاتھا لیکن اچانک 1990کے بعد میڈیاکا رخ بدلنا ہندوتوا سیاست اور سنگھ پریوار کے خفیہ ایجنڈے کا حصہ ہونے کی بات کہی۔ دہشت گردی کے الزام میں طویل مدت تک سزا کاٹنے کے بعد بے قصور رہاہونے والے مسلم نوجوانوں کے متعلق میڈیاکا مکمل خامو ش رہنا بھی اسی ایجنڈے کا حصہ ہونے کی بات کہی۔ پروگرام میں وارتا بھارتی کے نیو ز ایڈیٹر بی ایم بشیر نے بھی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ متعصبانہ ذہنیت اور جھوٹی خبروں کو شائع کرنےو الے اخبارات ’’خبروں میں توازن ‘‘رکھنے کی بات کرتے ہیں، ان اخبارات کو سچائی کا پتہ چلنے کے بعد بھی اپنی غلطی کو قبول نہ کرنا فرقہ پرست ذہنیت کا پتہ دیتے ہیں۔ دلتوں ، اقلیتوں ، پسماندہ طبقات کے متعلق میڈیا اپنی سوچ کو بدلنے کا انہوں نے مشورہ دیا۔ ڈاکٹر حسینہ قادر ی نظامت کی۔

خیال رہے کہ ڈی وائی آئی ایف ایک کمیونسٹ طلبا تنظیم ہے ، جو کسی بھی مذہب یا ذات سے وابستگی نہیں رکھنے کا دعویٰ کرتی ہے اور تاریخ میں پہلی مرتبہ مسلمانوں کے نام پر ایک کانفرنس کا انعقاد کرنے پر عوامی سطح پر سوال کیا جارہاہے کہ کیا یہ واقعی نظریات میں تبدیلی کی علامت ہے یا پھر مسلمانوں کے ووٹ حاصل کرنےکی طرف ایک قدم ہے۔


Share: