نئی دہلی، 20؍جون(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا )نیوز نیشن چینل میں سینئر پروڈیوسر ساجد اشرف نے رمضان کے مہینے میں ریل سے سفر کرتے وقت روزہ داروں کو ہونے والی پریشانی کو دیکھتے ہوئے وزیر اعظم مودی اور وزیر ریل سریش پربھوکو ٹویٹ کر ریلوے میں بھی افطار سہولت شروع کیے جانے کامشورہ دیا ہے۔اچھی بات یہ ہے کہ وزیر اعظم مودی کو ساجد اشرف کا یہ مشورہ پسند بھی آیا ہے، وزیر اعظم مودی نے ساجداشرف کی طرف سے ٹویٹس کئے گئے تجاویز کو لائک کر اپنی رضامندی ظاہر کی ہے۔ساجد اشرف کے اس اقدام کوٹویٹراور فیس بک پر بھاری حمایت مل رہی ہے، مسلم کمیونٹی نے بھی اس اقدام کا خیر مقدم کیا ہے۔ امید ہے اب جلد ہی ریلوے اس تجویز کو عملی جامہ پہنانے کی تیار شروع کر سکتا ہے اس سال یہ سہولت نہ مل پائے لیکن اگلے سال سے بھری افطارملنے کی امید تو کی ہی جا سکتی ہے۔ملک میں مسلمانوں کی آبادی 17 فیصد ہے، ریلوے میں روزانہ ڈھائی کروڑلوگ سفرکرتے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق ان مسافر میں 10 فیصد تعداد مسلمانوں کی ہوتی ہے، ظاہر ہے ریلوے کی بڑی آمدنی میں اس کمیونٹی کا بھی بڑا حصہ ہے رمضان کے مہینے میں ریل سے سفر کرنے والے مسلمانوں کی تعداد دگنی ہو جاتی ہے کیونکہ زیادہ تر لوگ عید منانے کیلئے ریل کے ذریعہ ہی گاؤں سے شہر یا شہر سے گاؤں تک کا سفر طے کرتے ہیں۔ لیکن تعجب کی بات یہ ہے کہ ریلوے کا کیٹرنگ محکمہ روزہ داروں کے افطار اور سحری کے لئے الگ سے کوئی انتظام نہیں کرتا۔عام طورپررمضان میں ریل سے لمبی دوری تک سفر کرنے والے روزہ دار خود ہی اپنی افطار اور سحر کا انتظام کر چلتے ہیں، لیکن یہ انتظام گھر جیسا تو بالکل بھی نہیں ہوتا۔ ریلوے لمبی دوری کی ریل میں ایسا آپشن دے سکتا ہے، تاکہ جو روزہ دار ریل میں ہی تازے پکوڑے، پھل یا کھجور خریدنا چاہیں انہیں یہ مہیا کرایا جائے۔کیونکہ کئی بار افطار کے وقت یہ چیزیں مہیا نہیں ہوپاتی،خاص طور پر اس وقت جب آپ کسی ایسے ٹرین میں سفر کر رہے ہوں جس کا اسٹاپ انتہائی کم ہو۔فی الحال ریلوے میں کیٹرنگ کا ذمہ آئی آر سی ٹی سی دیکھ رہا ہے۔ لیکن آئی آر سی ٹی سی نے بھی کبھی اس مسئلے پر غور نہیں کیا، یہ روزہ داروں اورمسلمانوں کیلئے مذہب سے جڑامعاملہ ہو سکتا ہے لیکن آئی آر سی ٹی سی کیلئے تو یہ بزنس بڑھانے کا بھی موقع ہوسکتاتھا۔وزیرریل سریش پربھو نئی سوچ والے شخص اور مسافر کیلئے کام کرنے والے ریلوے کے وزیر بتائے جاتے ہیں، لیکن پربھوکی توجہ بھی اس مارکیٹنگ حکمت عملی کو طرف اب تک نہیں گئی، جس سے ریلوے کے ساتھ روزہ داروں کو بھی فائدہ پہنچ جاتا۔اب جبکہ ساجد اشرف کی یہ تجویز مودی نے بھی پسند کی ہے توریلوے کے تمام ٹرینوں میں نہ سہی راجدھانی اور شتابدی جیسی ٹرینوں میں افطار کی سہولت تو شروع کر ہی سکتا ہے کیونکہ ان دو ٹرینوں میں بکنگ کرواتے وقت ہی آپ کو اپنی پسندکاکھاناچوزکرنے کا اپشن ہوتا ہے اور اسی حساب سے ریلوے باقی کرایہ کے ساتھ کھانے کا بل بھی ایڈوانس میں ہی کاٹ لیتا ہے ۔امید ہے کہ آنے والے سالوں میں ریلوے یہ سہولت ضرور دیگا جس سے ریلوے کا بھی فائدہ ہوگا اور روزہ داروں کابھی۔