ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / مینگلوروکے ڈی وائی ایس پی گنپتی کی خودکشی : افواہوں اور سیاست کا بازار گرم :معاملہ سی آئی ڈی کے حوالے

مینگلوروکے ڈی وائی ایس پی گنپتی کی خودکشی : افواہوں اور سیاست کا بازار گرم :معاملہ سی آئی ڈی کے حوالے

Fri, 08 Jul 2016 21:25:29    S.O. News Service

منگلورو:8/ جولائی(ایس او نیوز(منگلورو آئی جی پی دفترمیں ڈی وائی ایس پی کے عہدے پر فائز ایم کے گنپتی (51) کی لاش مڈکیری کی ایک لاڈج میں پھنکے سے لٹکتی ہوئی پائی گئ، جس کو دیکھتے ہوئے پولس نے اسے خودکشی بتایا ہے۔ بتایا گیا ہے کہحال ہی میں ان کا بنگلورو سی سی آر بی سے منگلورو آئی جی پی دفتر میں تبادلہ ہواتھا۔

کورگ ضلع سے تعلق رکھنے والے ڈی وائی ایس پی گنپتی کی خودکشی کے لئے واضح وجوہات کا ابھی تک پتہ نہیں چلاہے۔ بتایا جارہاہے کہ انہیں گذشتہ پانچ سالوں سے کوئی مناسب عہدہ نہ دینے اور ترقی کو لےکر کافی رنجید ہ نظر آرہے تھے۔ وہ اگلے 9سالوں بعد ریٹائرڈ ہونےو الے تھے۔ مڈکیری کے ونایک لاڈج میں صبح 15-10کو پہنچ کر 315روم نمبر میں رہائش اختیار کی تھی ۔ اُلال میں بطور ایس آئی خدمات انجام دینے والے گنپتی ، پتور، کدری اور بنٹوال میں انسپکٹر کے طورپر بھی کام کرچکے ہیں۔ اس دوران وہ نظم وضبط کے لئے بہت مشہور تھے۔ بنگلورو کے کئی تھانوں میں بھی خدمات انجام دئیے ہیں۔ 1991بیچ کے گنپتی اسپورٹس کوٹا کے تحت محکمہ میں پولس میں تقرر ہونے کے بعد ایس آئی کے طورپر سروس کا آغاز کیا تھا۔ 2001میں انہیں انسپکٹر کے عہدے پر ترقی دی گئی تو 2016میں انہیں ڈی وائی ایس پی کے عہدے پر ترقی دے کر فائز کیا گیا تھا۔ گنپتی کے پسماندگان میں بیوی اور دو بیٹے ہیں۔ وہ منگلورو میں ایک کرایہ کے فلیٹ میں مقیم تھے۔

ڈی وائی ایس پی گنپتی کی خودکشی کے بعد میڈیا اور سوشیل میڈیا میں افواہوں کا بازار گرم ہے، کنڑا نیوز چینل میں جمعہ کو صبح سے ڈیتھ نوٹ پر بحث جاری تھی جس میں کچھ کہہ رہے تھے کہ ڈتھ نوٹ میں اہم لوگوں کا نام درج ہے، مگر شام کو اُن کے گھروالوں نے ٹی وی نیوز چینل میں بیان دیا ہے کہ انہوں نے کوئی دیتھ نوٹ چھوڑا ہی نہیں تھا۔  اس تعلق سے ابھی تک کوئی مصدقہ خبر نہیں ملی ہے کہ ڈیتھ نوٹ تھا بھی یا نہیں اور اگر چھوڑا ہے تو اُس میں کیا لکھا ہوا ہے  وہیں یہ بھی بتایا جارہاہے کہ اعلیٰ افسران اور سیاست دانوں کی ہراسانی سے تنگ آکر گنپتی نے خودکشی کا اقدام اٹھایا ہے۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق گنپتی نے اس سے قبل مڈکیری کے ایک مقامی نیوز چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ کئی مقدمات میں اعلیٰ افسران کے ذریعے دباؤ اور ہراسانی ہورہی ہے، اگر کچھ ہوتا ہے تو اس کے لئے افسران اور سیاست دان ہی ذمہ دار ہونگے۔

معاملے کو سی بی آئی کے حوالے کیا جائے: بی جے پی کے ریاستی ذمہ داران سمیت دکشن کنڑا ضلع کے بی جے پی ذمہ داران نے پریس کانفرنس کے ذریعے گنپتی معاملے کو سی بی آئی کے حوالے کرنے کیمانگ کی ہے ۔  بی جے پی ضلع صدر سنجیو ماٹندور نے اخباری کانفرنس میں اس بات کا بھی مطالبہ کیا ہے کہ مبینہ ڈتھ نوٹ میں درج ہوئے ناموں کے افراد کو گرفتار کیاجائے۔

گنپتی خودکشی کا معاملہ سی آئی ڈی کو سونپا گیا ، خاطیوں کے خلاف قانونی کارروائی ہوگی: وزیر اعلیٰ سدرامیا

بنگلورو:ڈی وائی ایس پی ،ایم کے گنپتی کے خود کشی معاملے کو سی آئی ڈی کے حوالے کئے جانے اور رپورٹ موصول ہونے کے بعد خاطیوں کے خلاف قانونی کارروائی کرنے کا وزیر اعلیٰ سدرامیا نے تیقن دیاہے۔

جمعہ کو کابینہ کی میٹنگ شروع ہونے سےقبل میڈیا سے بات کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہاکہ معاملہ سی آئی ڈی کے حوالے کیا گیا ہے، رپورٹ کے بعد قانونی کارروائی کریں گے۔ بتایا جارہاہے کہ گنپتی نے خودکشی سے پہلے کچھ لوگوں کا نام لیا ہے، اسی سچائی کو جاننے کے لئے معاملہ سی آئی ڈی کے حوالے کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تمام سوالات اور شک و شبہات کا جواب سی آئی ڈی کی جانچ سے دور ہوجائے گی۔ آگے کہا کہ جب تک جانچ مکمل نہیں ہوگی تب تک کسی پر بھی شک کرنا اچھی بات نہیں ہے، رپورٹ موصول ہونے کے بعد خاطی کتنے بھی بڑے کیوں نہ ہوں ان کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے بی جے پی پر الزام عائد کیا کہ بی جے پی گنپتی معاملے کو لے کر سیاست کررہی ہے۔

چک مگلورو کے ڈی وائی ایس پی نے بھی خود کشی کی:اغواء اور رقم لوٹنے کا الزام عائد تھا

واضح رہے کہ تین دن قبل یعنی منگل کو چک مگلورو سب ڈویزن کے ڈی وائی ایس پی کلپا ہنڈی باگ نے بلگام کے اپنے رشتہ داروں کے مقام پر خود کشی کی تھی ۔اس طرح تین دنوں کے اندر کرناٹک میں پولس کے دو اعلیٰ پولس آفسران نے خودکیشی کی ہے۔ 

چکمنگلور ڈی وائی ایس پیکے تعلق سے بتایا گیا تھا کہ انہون نے دیگر پانچ افراد کے ساتھ  ایک نوجوان کو اغواء کرکے چھوڑنے کے عوض میں دس لاکھ روپیوں کا مطالبہ کیا تھا۔ معاملہ کو ظاہر ہوتے ہی کلپا فرار ہوگئے تھے۔ ان کے خلاف چک مگلورو کے بسون ہلی پولس تھانہ میں پیر کو کیس درج ہواتھا۔ چک مگلورو کی پولس کلپا کی تلاش میں تھی۔ چک مگلور و کے تیجس گوڈا نامی نوجوان نے ان کے خلاف شکایت دیتے ہوئے الزام لگایا تھا کہ نوجوانوں پر مشتمل ایک گینگ 28جون کواسے اغواء کیا اور 10لاکھ روپئے ادا کرنے کے بعد اس کو رہا کیا گیا۔معاملے کے متعلق بلگام کے ایس پی ،بی آر روی کنٹے گوڈا نے میڈیا کو بتایا کہ کلپا نے صبح 30-8بجے کے قریب خود کشی کی ہے۔

دیگر اخبارات میں شائع رپورٹ پر اعتماد کریں تو معاملے کو لے کر پانچ افراد کو پولس نے اپنی تحویل میں لیاہے، جب کہ بجرنگ دل کے لیڈر پروین کھانڈیا سے پوچھ تاچھ بھی کی گئی ہے۔ کھانڈیا کے خلاف فی الوقت 27 مقدمات درج ہیں۔ اخبارات میں یہ بھی شائع ہواہے کہ کھانڈیا جیوا کو جانتا تھا ، جس نے تیجس گوڈا کا اغواء کیا تھا۔ ابھی رام جس نے تیجس کو رہا کیا تھا، اور نوین شٹی جو بنگلورو میں کتوں کامرکز چلایا کرتاہے۔ لیکن پولس کو ابھی تک یہ پتہ نہیں چلا کہ ڈی وائی ایس پی کو رقم کہاں دی گئی ۔ کریمنل جانچ ٹیم بلگام ضلع ، رائے باگ تعلقہ کے ہنڈی گونڈا دیہات پہنچ کر خاندان والوں سے جانکاری حاصل کی ہے۔


Share: