نئی دہلی26جون ( ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا ) مفرور شراب تاجر وجے مالیا کی شکایت ہے کہ انہیں بینک ڈیفالٹ کا’’پوسٹر بوائے‘‘ بنا دیا گیا، جس سے انہیں لوگوں کے اشتعال کا شکار ہونا پڑ رہا ہے۔ مالیا نے اس کے ساتھ ہی کہا کہ انہوں نے بینک کا قرض ادا کرنے کی ہرممکن کوشش کی، لیکن سیاست سے متاثر بیرونی افراد کی بے جا مداخلت کی وجہ سے ایسا نہیں کرپائے۔ واضح ہو کہ بینکوں کا 9,000 کروڑ روپئے کا قرض لے کر فرار ہوئے مالیانے دوسال بعد اس بارے میں کوئی عوامی تبصرہ کیا ہے۔ مالیا نے منگل کو کہا کہ بدقسمتی سے وہ جس تنازعہ میں گھرے ہوئے ہیں، وہ اس کی 'حقیقت پسندانہ حیثیت' سامنے رکھنا چاہتے ہیں۔ مالیا نے کہا کہ انہوں نے 15 اپریل 2016 کو اپنے فریق کی جانکاری دینے کے لئے وزیراعظم اور وزیرمالیات کو خط لکھا تھا۔اپنے بیان میں مالیا نے کہا کہ ان کی طرف سے کوئی جواب نہیں ملا۔ ٹوئٹر پر جاری 5 صفحات کے بیان میں مالیا نے کہا کہ ان کی طرف سے کوئی جواب نہیں ملا۔ مالیا نے کہا کہ مجھ پر لیڈراور میڈیا الزام لگا رہے ہیں کہ کنگ فشر ایئر لائنس کو دیئے گئے 9,000 کروڑروپئے چراکر بھاگ گیا۔ قرض دینے والے کچھ بینکوں نے مجھے جان بوجھ کر ڈیفالٹربنادیا۔ٹوئٹر پر مالیا نے لکھاکہ دوسال کی خاموشی کے بعد میں نے ایک تفصیلی بیان جاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔مالیا فی الحال برطانیہ سے ہندوستان لائے جانے کے خلاف عدالتی لڑائی لڑ رہے ہیں۔ مالیا نے کہا کہ ان کے خلاف کئی ناممکن معاملات کے ساتھ سی بی آئی اور ای ڈی نے چارج شیٹ داخل کیا ہے۔ مالیا نے کہا کہ ای ڈی نے مجھ سے متعلق جائیداد اٹیچ کرلیں۔ پی ایم ایل اے ایکٹ کے تحت میری گروپ کمپنیوں کی نیلامی کے لئے 13،900 کروڑ روپئے کی قیمت طے کی ہے۔مالیا نے کہا کہ میں احترام کے ساتھ کہتا ہوں کہ میں نے عوامی میدان کے بینکوں کی قرض ادائیگی کے لئے ہرممکن کوشش کی اور اسے آگے جاری رکھا ہے۔ اگر سیاست سے متاثر باہری لوگ مداخلت کرتے ہیں، تو ایسا کچھ بھی نہیں ہے، جو میں کرسکتا ہوں۔