ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / نلین کمار کٹیل نے ریاستی بی جے پی صدارت سنبھالی، نئے وزیر اشوک تقریب سے غائب، ایشورپا درمیان ہی نکل گئے، اہم لیڈر غیر حاضر 

نلین کمار کٹیل نے ریاستی بی جے پی صدارت سنبھالی، نئے وزیر اشوک تقریب سے غائب، ایشورپا درمیان ہی نکل گئے، اہم لیڈر غیر حاضر 

Wed, 28 Aug 2019 11:40:02    S.O. News Service

بنگلورو، 28/اگست (ایس او نیوز) منگلورو کے رکن پارلیمان اور آر ایس ایس کے پس منظر سے آنے والے نلین کمار کٹیل نے منگل کے روز ریاستی بی جے پی صدر کی حیثیت سے باضابطہ عہدہ سنبھال لیا۔ شہر کے ملیشورم میں واقع بی جے پی کے صوبائی ہیڈکوارٹرس میں رخصت پذیر بی جے پی صدر اور وزیر اعلیٰ ایڈی یورپا نے مسٹر کٹیل کو پارٹی کی ریاستی صدارت سوپنی۔ نلین کمار کٹیل کا شمار بی جے پی کے قومی جنرل سکریٹری بی ایل سنتوش کے اقربا میں کیا جاتا ہے اور یہ مانا جاتا ہے کہ کٹیل کو سنتوش نے ہی سرگرم سیاست میں لایا تھا۔  بی جے پی دفتر میں پارٹی صدارت سنبھا لنے کے بعد کٹیل نے کہا کہ آنے والے دنوں میں وہ وزیر اعلیٰ ایڈی یورپا کے ساتھ مل کر ریاست کے سیلاب زدگان کی مدد کرنے کے ساتھ ساتھ پارٹی کو بنیاد سطح پر مضبوط کرنے کی جدوجہد کریں گے۔ اس موقع پر ایڈی یورپا نے کہا کہ ریاست کے سیلاب زدگان کی باز آبادکاری حکومت کے سامنے ایک بہت بڑا چیلنج ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیلاب سے متاثرہ اضلاع کے دوروں کا سلسلہ وہ جاری رکھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ بننے کے بعد انہوں نے گزشتہ ایک ماہ کے دوران ایک دن بھی آرام نہیں کیا، آئندہ بھی متحرک رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ان کا ساتھ دینے کے لئے کابینہ کی شکل میں ایک اچھی ٹیم بنی ہے آنے والے دنوں میں ریاست میں ایک اچھا انتظامیہ قائم کیا جائے گا اور اس بات کی کوشش کی جائے گی کہ اگلے اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کو کم از کم 150سیٹوں پر کامیابی حاصل ہو اور ریاست میں ایک مستحکم حکومت کا قیام عمل میں آئے۔ انہوں نے پارٹی کارکنوں سے کہا کہ پارٹی میں کسی طرح کے انتشار کا موقع فراہم نہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کی قومی قیادت نے کانگریس مکت بھارت کا جو خواب دیکھا ہے وہ شرمندہ تعبیر ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ اور وزیر خزانہ نرملا سیتارمن نے ریاست کے سیلاب زدہ علاقوں کا دورہ کیا اور ریاست کو مناسب امداد کا تیقن دیا ہے اس کے بعد مرکزی ٹیم ان دنوں سیلاب سے متاثرہ علاقوں کے دورے پر ہے۔ انہوں نے توقع ظاہر کی کہ مرکزی حکومت سے کرناٹک کو مناسب امداد مہیا کرائی جائے گی۔ وزیر اعلیٰ نے عوام، تاجروں اور صنعت کاروں سے اپیل کی کہ سیلاب کے متاثرین کی مدد کریں۔ اس تقریب کے دوران بھی ریاستی بی جے پی میں برگشتگی کھل کر سامنے آئی۔ جیسے ہی کٹیل نے اپنی تقریر شروع کی ریاستی وزیر دیہی ترقیات ایشورپا اسٹیج سے اتر کر چلے گئے۔ اپنے قلمدان سے ناخوش وزیر سیاحت سی ٹی روی نے بھی تقریب میں بڑھ چڑھ کر حصہ نہیں لیا۔ وزیر مالگزاری آر اشوک اور دیگر سرکردہ بی جے پی رہنما نے اس تقریب سے غیر حاضر رہ کر انہیں دیئے جانے والے قلمدانوں پر اپنی ناراضگی درج کرائی۔ 
 


Share: