بھٹکل:22/نومبر (ایس او نیوز) پانچ سو اور ہزار روپئے کےنوٹوں کو بند کئے جانے سے بلیک منی کو وائٹ میں منتقل کرنے والے بڑے بڑے مگرمچھ پرکچھ اثر ہورہاہے یا نہیں یہ تو حالات پر نظر رکھنے والے بخوبی جانتے ہیں جبکہ اس فیصلہ کا اثر سماج کے ہرسطح کی عوامی زندگی پربھی آسانی سے دیکھا جاسکتا ہے۔ جن لوگوں کے پاس بڑی بڑی رقم تجوریوں اور کمروں میں سڑ رہی ہے وہ %20 اور %30 کمیشن دے کر اپنی رقموں کو بڑے پیمانے پر تبدیل کرنے میں لگے ہوئے ہیں تویومیہ اخرجات کے لئے مزدوری کرنے والے غریبوں کے حالات کچھ اور ہی ہیں۔ ایک طرف دکانوں میں گاہک نظر نہیں آرہے ہیں، مزدوروں کو دینے کےلئے نوٹ نہ ہونے سے تعمیراتی کام ٹھپ پڑگئے ہیں تو وہیں غریب اور مزدور طبقہ روزگار نہ ہونے سے الگ پریشان ہیں۔
ایسے میں بھٹکل تعلقہ کا سیاحتی مقام مرڈیشور جہاں ہزاروں کی تعداد میں ملک بھر کے سیاح نظر آتے تھے نوٹوں پر پابندی عائد کرنے کے بعد اچانک ایسے غائب ہوگئے ہیں جیسے اُجالا آتے ہی اندھیرا غائب ہوجاتا ہے۔ مجموعی طور پرمرڈیشور جیسا مشہور سیاحتی مقام اپنے سیاحوں اوربھگتوں کی قلت سے سنسان لگ رہاہے۔
اکتوبر ہوتے ہی مرڈیشور کی سیاحت اور وہاں کے مندرکا درشن کرنے کے لئے عوام کی ریل پیل شروع ہوجاتی تھی۔ یہاں آنے والے سیاحوں کی یومیہ شرح 35-40ہزار رہتی ہے، بعض دفعہ یہ تعداد 60ہزار سے بھی تجائوز کرجاتی ہے۔ ضلع کی آمدنی کی بات کریں تو گوکرن کے علاوہ سیاحتی مرکز کے طورپر مرڈیشورسب سے زیادہ آمدنی دینے والا مقام ہے۔ سیاحت کے لئے مشہور ہونے کے ساتھ ساتھ مرڈیشور ہزاروں مقامی لوگوں کو روزگار بھی مہیا کراتاہے۔ چھوٹے موٹے دوکان سے لے کر بڑے بڑے ہوٹل ، لاڈج کی تعداد میں سال بہ سال اضافہ ہونا سیاحوں کی آمد میں اضافے کی طرف اشارہ کرتاہے۔ لیکن نوٹ بندی کے فیصلے نے مرڈیشور کوبھی اندرونی طورپر بڑا جھٹکا دیا ہے۔
ہزاروں بھگتوں سے بھرے ہونے والے مرڈیشور کے راستے آج بالکل سنسان نظر آرہے ہیں، لاڈ ج ، ہوٹل اور دیگر مقامات خالی خالی ہیں، البتہ سیاحوں کی آمد نہ ہونے کے باوجود ضلعی انتظامیہ بیچ پر ترقیاتی کاموں کو شروع کرنے کے منصوبے بنارہی ہے۔ عوامی تعاون سے بیچ کی صفائی وغیرہ کاکام جاری ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ حالات آخر کب بحال ہوتے ہیں اوراچھے دن کے انتظار میں مزدوری کرکے روزی روٹی کمانے والوں کے برے دن کب ختم ہوتے ہیں۔