نئی دہلی،2؍ستمبر (ایس او نیوز؍ایجنسی) کورونا وائرس کے بحران کے درمیان پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس کی تیاریاں زوروں پر ہیں۔ یہ اجلاس 14 ستمبر کو شروع ہونا ہے لیکن حکومت اور حزب اختلاف کے مابین جنگ پہلے ہی سے تیز ہو گئی ہے۔ اس بار پارلیمنٹ کے اجلاس سے وقفہ سوالات ندارد ہے، جس کے حوالہ سے حزب اختلاف نے سوالات کھڑے کیے ہیں۔ کانگریس کے رکن اسمبلی ششی تھرور سے لے کر ٹی ایم سی قائدین نے اس مسئلے پر حکومت کا محاصرہ کیا ہے۔
کانگریس کے رکن پارلیمنٹ ششی تھرور نے اس معاملہ پر ٹوئٹ کیا کہ ’’میں نے چار ماہ قبل کہا تھا کہ ’مضبوط لیڈران‘ جمہوریت کے خاتمے کے طور پر اس وبا کو استعمال کر سکتے ہیں۔ پارلیمنٹ اجلاس کا نوٹیفکیشن بتا رہا ہے کہ اس بار وقفہ سوالات نہیں ہوگا۔ ہمیں محفوظ رکھنے کے نام پر یہ عمل کتنا مناسب ہے؟‘‘
کانگریس لیڈر نے کہا کہ پارلیمانی جمہوریت میں حکومت سے سوالات کرنا آکسیجن کی طرح ہے لیکن یہ حکومت پارلیمنٹ کو نوٹس بورڈ کی طرح بنانا چاہتی ہے اور اپنی اکثریت کو ربڑ اسٹامپ کے طور پر استعمال کر رہی ہے۔ جس طریقے سے احتساب ہو رہا تھا، وہ بھی ختم کر دیا جا رہا ہے۔
کانگریس کے رہنما راجیو شکلا نے بھی اس معاملے پر ٹوئٹ کیا اور لکھا کہ یہ کیسے ہوسکتا ہے؟ اسپیکر سے اپیل ہے کہ وہ اس فیصلے کو دوبارہ دیکھیں۔ وقفہ سوالات پارلیمنٹ کی سب سے بڑی طاقت ہے۔