بنگلورو،29؍مارچ(ایس او نیوز) ریاست میں پہلے مرحلے کے انتخاب کے لئے نامزدگیوں کی واپسی کا سلسلہ آج ختم ہونے کے ساتھ ہی 14 پارلیمانی حلقوں کے لئے مقابلے میں رہ جانے والے امیدوار میدان میں اترنے کے لئے کمر بستہ ہوگئے ۔خاص کر ریاست میں مرکز توجہ بننے والے ٹمکور پارلیمانی حلقے میں آج سابق وزیر اعظم اور کانگریس جے ڈی ایس متحدہ امیدوار ایچ ڈی دیوے گوڈا نے اس وقت راحت کی سانس لی جب موجودہ رکن پارلیمان اور باغی کانگریس امیدوار کے طور پر میدان میں اترنے والے ایس ٹی مدو ہنومے گوڈا نے آج اپنا پرچۂ نامزدگی واپس لینے کے ساتھ ٹمکور حلقے میں دیوے گوڈا کی کامیابی کے لئے جدوجہد کرنے پر بھی آمادگی ظاہر کردی۔
آج صبح کے پی سی سی صدر دنیش گنڈوراؤ اور نائب وزیراعلیٰ ڈاکٹر جی پرمیشور نے مدو ہنومے گوڈا کی رہائش گاہ پہنچ کر ان سے بات چیت کی، اور انہیں اس بات کے لئے منانے میں کامیابی حاصل کرلی کہ وہ ٹمکور پارلیمانی حلقے میں مقابلے سے ہٹ جائیں اور اپنا پرچۂ نامزدگی واپس لے لیں۔ پرچۂ نامزدگی واپس لینے پر مدو ہنومے گوڈا کی آمادگی کو کانگریس جے ڈی ایس اتحاد کے لئے ایک بڑی جیت تصور کیاجا رہا ہے۔ کانگریس اعلیٰ کمان نے طے کیا تھا کہ ٹمکور پارلیمانی حلقہ جے ڈی ایس کو دیا جائے، اس پر عمل کرتے ہوئے آج مدو ہنومے گوڈا نے ریاست میں سیکولر اتحاد کے لئے اپنی سیٹ قربان کردی۔ نائب وزیراعلیٰ ڈاکٹر جی پرمیشور نے مقابلے سے ہٹنے کے لئے مدو ہنومے گوڈا کے فیصلے کو خوش آئند قرار دیا اور کہاکہ کانگریس جے ڈی ایس اتحاد کے لئے ان کی قربانی رائیگاں نہیں جائے گی بلکہ آنے والے دنوں میں ان کی قربانیوں کے عوض پارٹی مناسب مقام اور مرتب کو یقینی بنائے گی۔
بتایا جاتا ہے کہ دنیش گنڈو راؤ اور پرمیشور سے ملاقات کے دوران مدو ہنومے گوڈا نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ ٹمکور حلقہ سابق وزیراعظم دیوے گوڈا کو دینے سے قبل کانگریس قیادت نے موجودہ رکن پارلیمان ہونے کے ناطے ان سے مشورہ کرنا بھی ضروری نہ سمجھا۔ سیٹ نہ ملنے سے زیادہ انہیں اس بات کا زیادہ افسوس ہے۔ اگر ریاستی قائدین یا اعلیٰ کمان انہیں طلب کرکے کہتے تو شاید وہ پرچۂ نامزدگی بھی داخل نہ کرتے۔ انہوں نے کہاکہ اب جبکہ پارٹی اعلیٰ کمان کی خواہش ہے کہ وہ اس حلقے سے دیوے گوڈا کو کھڑانا چاہتی ہے تو وہ پارٹی کے ایک وفادار سپاہی ہونے کے ناطے اس پر عمل کریں گے۔ تاہم دیوے گوڈا کی ٹمکور حلقے سے جیت یقینی بنانے کے لئے ڈاکٹر پرمیشور ، دنیش گنڈوراؤ اور سابق وزیراعلیٰ سدرامیا کی طرف سے جو کوشش کی گئی تھی وہ آج رنگ لائی۔ بتایاجاتاہے کہ ملاقات کے دوران پرمیشور اور دنیش گنڈوراؤ نے یقین دلایا کہ ان کے مفادات کا تحفظ کرنا ریاستی کانگریس قائدین اپنی ذمہ داری سمجھتے ہیں بشرطیکہ وہ دیوے گوڈا کی جیت کے راستے میں حائل نہ ہوں۔
کہاجاتا ہے کہ ان دونوں رہنماؤں نے اس موقعے پر مدو ہنومے گوڈا کی بات سدرامیا سے بھی کروائی اور انہوں نے بھی مدو ہنومے گوڈا سے گزارش کی کہ وہ مقابلے سے ہٹ جائیں اور انہیں یقین دلایا کہ ان کی طرف سے جو قربانی دی جارہی ہے اس کے عوض بہت جلد پارٹی انہیں مناسب مقام اور مرتبے سے سرفراز کرے گی۔ پچھلے ایک ہفتے سے یہ انتشار برقرار تھاکہ مدو ہنومے گوڈا اگر مقابلے میں رہ گئے تو ٹمکور حلقے میں دیوے گوڈا کی کامیابی میں مشکلات پیدا ہوسکتے ہیں۔ تاہم آج کانگریس لیڈر کی نامزدگی واپس لینے پر آمادگی سے تمام پریشانیان ختم ہوگئیں۔